Baaghi TV

بھارت میں ایل پی جی بحران کے بعد کنڈوم بھی غریب عوام کی پہنچ سے دور

condom

نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکا ،اسرائیل اور ایران کشیدگی کے اثرات اب بھارت کی معیشت پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ایل پی جی کے بعد اب کنڈوم انڈسٹری بھی بحران کی زد میں آ گئی ہے، جس کے باعث آئندہ ہفتوں میں کنڈوم مہنگے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بھارت کی بڑی کنڈوم بنانے والی کمپنیوں، جن میں HLL لائف کیئر، کیوپڈ لمیٹڈ اور مین کائنڈ فارما شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ اہم خام مال کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی راستوں میں خلل کے باعث سپلائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ماہرین کے مطابق کنڈوم کی تیاری میں استعمال ہونے والا سلیکون آئل، جو چکناہٹ کے لیے ضروری ہے، نایاب ہوتا جا رہا ہے، جبکہ اینہائیڈرس امونیا،جو کنڈوم کو پھٹنے سے بچاتا ہے،کی قیمت میں 40 سے 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

بھارت کی کنڈوم انڈسٹری تقریباً 86 کروڑ ڈالر (8000 کروڑ روپے سے زائد) مالیت کی ہے اور سالانہ 400 کروڑ سے زائد کنڈوم تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم خام مال کی کمی اور پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے۔رپورٹس کے مطابق لیٹیکس کی تیاری کے لیے درکار تقریباً 86 فیصد امونیا سعودی عرب، قطر اور عمان سے درآمد کیا جاتا ہے، لیکن آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے سپلائی چین کو متاثر کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ایلومینیم فوائل اور پی وی سی جیسے پیکجنگ مواد کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پیداوار مزید سست پڑ رہی ہے۔ایک سینئر انڈسٹری عہدیدار کا کہنا ہے کہ سلیکون آئل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جبکہ امونیا کی قیمت تقریباً 45 روپے فی کلو سے بڑھ کر 63 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر راجیو جے دیون نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے سنگین سماجی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کنڈوم کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی غریب طبقے کی پہنچ سے اسے دور کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں غیر منصوبہ بند حمل، ماں اور بچے کی شرح اموات میں اضافہ اور جنسی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران ،امریکہ کشیدگی نے تعمیراتی شعبے کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایل این جی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سیمنٹ، اسٹیل اور ٹائل انڈسٹری کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ گجرات کے صنعتی شہر موربی میں سیرامک یونٹس کی پیداوار سست ہو گئی ہے، جبکہ فیروز آباد کی گیس پر انحصار کرنے والی شیشہ سازی کی صنعت میں کئی کارخانے یا تو بند ہو گئے ہیں یا 30 سے 40 فیصد تک پیداوار کم کر دی گئی ہے۔

More posts