وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی پیشرفت خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارتکاری اور پرامن حل کی حمایت کی ہے اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک تاریخی دن ہے اور وہ قومی معاملات پر ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں مسلسل جاری ہیں حالیہ بین الاقوامی پیشرفت خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارتکاری اور پرامن حل کی حمایت کی ہے اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں، مذاکر ات میں تاریخی پیش رفت ہوئی ہے جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خوش آئند ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں جبکہ پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکرات کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا، پاکستان نے خلوص نیت اور سنجیدگی کے ساتھ سفارتی کوششیں کیں، مذاکراتی عمل دن رات جاری رہا اور رات گئے تمام فریقین کے اتفاق سے مشترکہ اعلامیہ تیار کیا گیا، جس کی بعد ازاں تمام متعلقہ فریقوں نے توثیق بھی کی۔
وزیراعظم کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے جبکہ آئندہ 60 روز کے دوران تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رہیں گے ان مذاکرات میں جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل پروگرام اور منجمد اثاثوں سمیت دیگر اہم معاملات پر بات چیت کی جائے گی، پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم ہوئی ہے اور ملک نے امن و استحکام کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے 60 روز کے اندر مفاہمتی یادداشت ایک مستقل اور دیرپا معاہدے کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس سے خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کی امید پیدا ہوئی ہے۔
شہباز شریف نے پوری قوم، پارلیمنٹ اور اپوزیشن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مذاکراتی عمل میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے اور عالمی میڈیا نے بھی اس مثبت کردار کو نمایاں کوریج دی ہے وزیراعظم نے اسے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا مثبت عالمی تشخص اربوں روپے خرچ کرنے سے بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی صدرآج پاکستان پہنچ رہے ہیں ایرانی صدر پاکستان کی دعوت پر دورہ کر رہے ہیں اور اس دوران دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی امن اور استحکام سمیت مختلف امور پر اہم ملاقاتیں ہوں گی پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مضبوط اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔
اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نے ملکی سیاسی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن اختلافی معاملات اٹھانے کا نہیں تھا بلکہ قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے معاملات پر یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے تھااگر پاکستان تحریک انصاف کو تحقیقات کا اتنا ہی شوق ہے تو پھر تحقیقات کا آغاز 2018 سے کیا جانا چاہیے تاکہ تمام معاملات قوم کے سامنے آسکیں۔
