سعودی وزارتِ خارجہ نے ایران کی جانب سے مملکتِ سعودی عرب، خلیج تعاون کونسل اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کے خلاف حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور عالمی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے یہ اقدامات نہ صرف حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کے منافی ہیں بلکہ ان سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور دوطرفہ تعلقات مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے،سعودی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایران کے سفارت خانے کے عسکری اتاشی، ان کے معاون اور سفارتی عملے کے 3 دیگر ارکان کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا ہے۔
عالمی یومِ آب:صدر مملکت کا بھارت کا مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تشویش
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے،سعودی عرب اپنی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں و مقیمین کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا ، مملکت اقوامِ متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
ایران کے عراد، دیمونا پر حملوں کو نیتن یاہو نے ’انتہائی مشکل شام‘ قرار دیا
