بیماری کو مؤخر کرنے والی دنیا کی پہلی دوا ٹیپلیزومیب (Teplizumab) کو برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس میں استعمال کی منظوری دے دی گئی ہے۔
برطانوی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس (NICE) نے اس دوا کی منظوری دی بچوں میں ٹائپ 1 ذیابیطس کو ظاہر ہونے سے روکنے والی دنیا کی پہلی دوا Tzield (teplizumab) ہے یہ دوا ان بچوں میں بیماری کو 2 سے 3سال تک روک سکتی ہے جو اس کے ابتدائی مرحلے (اسٹیج 2) میں ہوتے ہیں، جس سے انہیں انسولین کے روزانہ انجیکشنز سے کچھ سال کی مہلت مل جاتی ہے،یہ دوا 8 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے منظور کی گئی ہے جن میں بیماری ابتدائی مرحلے (اسٹیج 2) میں تشخیص ہو چکی ہو لیکن علامات ابھی ظاہر نہ ہوئی ہوں۔
یہ دوا مدافعتی نظام (immune system) کو تربیت دیتی ہے کہ وہ لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیات پر حملہ نہ کرے، ایف ڈی اے (FDA) کی جانب سے اس کے استعمال کی منظوری کی عمر ۱ سال اور اس سے زائد کے بچوں تک بڑھا دی گئی ہے، یہ دوا 14 دن تک لگاتار نس کے ذریعے (IV drip) دی جاتی ہے، جس کا دورانیہ کم از کم 30 منٹ روزانہ ہوتا ہے، یہ دوا بیماری کے تدارک کے لیے اس وقت موثر ہے جب بچہ اسٹیج 2 (علامات ظاہر ہونے سے پہلے) میں ہو، لہٰذا اسکریننگ نہایت اہم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مریضوں کو کئی سال تک معمول کی زندگی گزارنے کا موقع ملے گا اور انہیں بیماری کے مکمل بوجھ کا سامنا کرنے سے قبل اضافی وقت حاصل ہو گا دوا ساز کمپنی سونوفی(Sanofi) کی تیار کردہ دوا جسے Tzield کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، NHS کو رعایتی قیمت پر فراہم کی جائے گی،اگر بیماری کی بروقت تشخیص ممکن ہو تو یہ دوا ہزاروں لوگوں کو کئی سال تک انسولین پر انحصار سے بچا سکتی ہے۔
