کبھی کبھی زندگی کی بے ہنگم دوڑ میں اچانک کوئی خوشبو، کوئی آواز یا کوئی پرانا منظر ہمیں برسوں پیچھے لے جاتا ہے۔ پھر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے لمحہ بھر کے لیے اپنا سفر روک دیا ہو۔ میں جب بھی اپنے بچپن کی گلیوں میں لوٹتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم واقعی خوش قسمت تھے۔ ہمارے پاس آسائشیں کم تھیں، مگر زندگی زیادہ تھی۔ سہولتیں محدود تھیں، مگر خوشیاں بے شمار تھیں۔
ہماری خوشیوں کا تعلق مہنگے کھلونوں سے نہیں تھا۔ گلی ہماری دنیا تھی، دوست ہماری دولت تھے، اور کھیل ہماری سب سے بڑی تفریح۔ چھپن چھپائی، آنکھ مچولی، پٹھو گرم، رسہ کود، کنچے، لٹو، بارش میں کاغذ کی کشتیاں، گرمیوں کی شامیں اور سردیوں کی دھوپ… یہ سب ہمارے بچپن کے ایسے باب ہیں جنہیں وقت آج تک دھندلا نہیں سکا۔ ہم دوڑتے تھے، گرتے تھے، ہنستے تھے، روٹھتے تھے، پھر چند لمحوں بعد ایک دوسرے کو منا بھی لیتے تھے۔ اس زمانے میں کھیل صرف جسمانی سرگرمی نہیں تھے، وہ ہمیں صبر، برداشت، دوستی، تعاون اور ہار جیت کا سلیقہ بھی سکھاتے تھے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں رہتے ہوئے بھی ہماری زندگی میں ایک خوبصورت نظم تھا۔ صبح جلدی جاگنا معمول تھا اور رات دیر تک جاگنے کا تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ آج بھی یاد ہے کہ ہفتے کا وہ ایک ڈرامہ پورے گھر کو ایک جگہ جمع کر دیتا تھا۔ ہم سب ایک ساتھ بیٹھ کر اسے دیکھتے، ہنستے، سوچتے اور اکثر اس سے کوئی سبق بھی سیکھتے۔ اُس دور کے ڈرامے صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ کردار سازی کا حصہ تھے۔ ان میں خاندان، احترام، محبت، ایثار، سچائی اور اخلاقی اقدار کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا جاتا تھا۔
پھر گھڑی کی سوئیاں جیسے ہی رات کے نو بجنے کا اعلان کرتیں، پورے گھر کا ماحول بدل جاتا۔ ٹیلی ویژن بند ہو جاتا، امی کی آواز آتی، "اب سونے کا وقت ہے۔” کبھی دادی اپنی جوانی کے قصے سناتیں، کبھی نانی کسی تاریخی واقعے سے ہمیں روشناس کراتیں، کبھی ابو انبیائے کرامؑ یا صحابۂ کرامؓ کے واقعات سناتے اور کبھی امی ہمیں سونے سے پہلے کی دعائیں یاد کراتیں۔ ہم دعائیں پڑھتے، سکون سے سوتے اور اگلی صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ایک نئی توانائی کے ساتھ جاگتے۔
آج سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ہمارے والدین شاید اعلیٰ ڈگریوں کے حامل نہیں تھے، مگر وہ تربیت کے ایسے معلم تھے جنہوں نے ہمیں صرف پڑھنا نہیں، بلکہ جینا سکھایا۔ انہوں نے ہمیں ادب، احترام، رشتوں کی حرمت، پڑوسیوں کے حقوق، سادگی، قناعت، نماز، روزہ اور اخلاقیات کی وہ تعلیم دی جو آج بھی زندگی کا سرمایہ ہے۔ ہمیں اپنے خاندان کے ہر فرد کی پہچان تھی، رشتوں کی قدر تھی اور محبتوں کی زبان سمجھ آتی تھی۔
پھر وقت بدلا۔ ٹیکنالوجی نے دنیا کو بدل دیا۔ اس تبدیلی نے بے شمار آسانیاں پیدا کیں، علم تک رسائی آسان ہوئی، فاصلے سمٹ گئے اور زندگی کے کئی مسائل حل ہوئے۔ اس ترقی سے انکار ممکن نہیں، نہ ہی ہونا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس ترقی کی قیمت ہمارے بچوں کا بچپن تو نہیں بن گیا؟
آج کا بچہ ڈیجیٹل دنیا میں پیدا ہوتا ہے اور اسی میں بڑا ہو رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ والدین بھی اسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ہر فرد اپنی الگ اسکرین میں گم ہے۔ دور بیٹھے لوگوں سے مسلسل رابطہ ہے، مگر ایک ہی کمرے میں بیٹھے افراد کے درمیان گفتگو کم ہوتی جا رہی ہے۔ کھیل کے میدان سنسان ہیں، مگر موبائل فون کی اسکرینیں آباد ہیں۔ بچوں کو دنیا بھر کی معلومات میسر ہیں، مگر بعض اوقات انہیں اپنے قریبی رشتہ داروں کے نام تک معلوم نہیں ہوتے۔
یہ تحریر ہرگز ماضی کی اندھی تعریف یا حال کی بے جا تنقید نہیں۔ ہر دور کی اپنی خوبیاں ہوتی ہیں اور ہمیں یقیناً وقت کے ساتھ چلنا چاہیے۔ مگر وقت کے ساتھ چلنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی تہذیب، اپنی ثقافت، اپنی خاندانی روایات اور اپنے بچوں کی معصوم خوشیوں کو پیچھے چھوڑ دیں۔
اگر آج ہم نے بچوں کو صرف اسکرینوں کے حوالے کر دیا، اگر کھیل، کہانیاں، مشترکہ کھانے، بزرگوں کی صحبت، دعائیں، ہنسی، شور اور خاندان کا ساتھ ان کی زندگی سے نکل گیا تو نقصان صرف ایک بچے کا نہیں ہوگا، بلکہ ہماری پوری معاشرت، ہماری ثقافت اور ہماری خاندانی شناخت آہستہ آہستہ کمزور پڑ جائے گی۔
بچپن کہیں کھویا نہیں… ہم نے اسے اپنی مصروفیات، اپنی بے پناہ سہولتوں اور چمکتی ہوئی اسکرینوں کے نیچے دبا دیا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اسے دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں۔ روزانہ چند لمحے اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر، ان سے باتیں کرکے، انہیں کہانیاں سنا کر، ان کے ساتھ کھیل کر اور انہیں رشتوں کی گرمی کا احساس دلا کر ہم ان کا بچپن واپس لا سکتے ہیں۔
آخر میں بس ایک سوال…
ہم اپنی اولاد کو جدید ترین موبائل، بہترین لباس اور اعلیٰ تعلیم تو دینا چاہتے ہیں، مگر کیا ہم انہیں ایسا بچپن بھی دے رہے ہیں جسے وہ چالیس سال بعد ہماری طرح محبت، مسکراہٹ اور نم آنکھوں کے ساتھ یاد کر سکیں؟
