استاد: عزیز طلبہ! یاد رکھیے، عقیدہ ختمِ نبوت دین اسلام کی بنیاد ہے اور اس کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔
شاگرد: جی استادِ محترم! نبی محمد ﷺ آخری نبی ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے: "أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي”۔ اس عقیدے کے بغیر ہر مسلمان کا ایمان نامکمل اور ادھورا ہے۔
استاد: شاباش! بالکل درست کہا آپ نے۔ یہ ایک ایسا حتمی سچ ہے جس پر پوری امت کا اجماع ہے۔
شاگرد: استادِ محترم! اگر کوئی غیر مسلم یا عقل پرست ہم سے اس عقیدے کی قرآن سے سب سے مضبوط دلیل مانگے، تو ہم اسے کیا جواب دیں گے؟
استاد: اس کے لیے قرآنِ مجید کی سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 40 سب سے بڑی اور واضح دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ”۔ یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ یہاں لفظ ‘خاتم’ کا مطلب وہ مہر ہے جو کسی چیز کے مکمل ہونے پر لگا دی جائے تاکہ اس میں کچھ اور داخل نہ ہو سکے۔
شاگرد: سبحان اللہ! کتنی واضح دلیل ہے۔ استادِ محترم، کیا احادیث میں بھی اس کی مزید کوئی مثال ملتی ہے؟
استاد: جی ہاں! رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ نبوت کو ایک خوبصورت محل سے تشبیہ دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے بہت خوبصورت محل بنایا، مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس محل کو دیکھتے اور حیران ہو کر کہتے کہ یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: "فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ” یعنی میں ہی وہ آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ نبوت کا یہ عالی شان محل آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ پر مکمل ہو چکا اب اس میں کسی نئی اینٹ یا نئے نبی کی گنجائش ہی نہیں رہی۔
شاگرد: اللہ اکبر! اس خوبصورت مثال نے تو سارے شک و شبہات دور کر دیے۔ استادِ محترم، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا دائرۂ اسلام سے خارج ہے؟
استاد: بالکل! آپ ﷺ نے خود اپنی زندگی میں ہی امت کو خبردار فرما دیا تھا کہ میری امت میں تیس کے قریب جھوٹے آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی کذاب نے یہ ناپاک جسارت کی، امتِ مسلمہ نے متحد ہو کر اس فتنے کو کچل دیا۔ عہدِ صدیقی میں مسیلمہ کذاب کے خلاف صحابہ کرام کا جہاد اس کی سب سے پہلی اور روشن مثال ہے۔
شاگرد: جزاک اللہ استادِ محترم! آج کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ عقیدہ ختمِ نبوت کی ہماری زندگی اور ایمان میں کیا اہمیت ہے۔ ہمیں اس کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔
استاد: بہت خوب! اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے آخری نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنے اور اس عظیم عقیدے پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
