واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 سالہ بیٹے بیرن ٹرمپ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث خود کو عوامی سرگرمیوں سے کافی حد تک دور کرلیا ہے اور زیادہ وقت گھر یا نجی مقامات پر گزار رہے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بیرن ٹرمپ نیویارک یونیورسٹی میں تعلیم کے دوسرے سال میں ہیں اور رواں موسمِ گرما کا بیشتر وقت انہوں نے اپنی والدہ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کے ساتھ نیو جرسی کے ٹرمپ نیشنل گالف کلب بیڈ منسٹر میں گزارا۔رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بیرن گھر سے باہر نکلنے اور عوامی مقامات پر نظر آنے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ کسی نجی مقام پر جانے کی صورت میں بھی وہ زیادہ دیر وہاں قیام نہیں کرتے اور جلد دوسری جگہ منتقل ہوجاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بیرن قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے بھی قریب تھے اور ان کی ہلاکت سے شدید متاثر ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرن نے اپنے والد ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کرکے چارلی کرک کی ہلاکت سے آگاہ کیا اور مبینہ طور پر کہا کہ ’’جب آپ باہر نکلتے ہیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘
امریکی میڈیا کے مطابق میلانیا ٹرمپ کے دفتر نے حالیہ دھمکیوں کے تناظر میں بیرن کی نجی زندگی سے متعلق تفصیلات خبروں میں شامل نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ میلانیا اپنے بیٹے کے نجی زندگی سے متعلق فیصلوں کا احترام کرتی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت ختم ہونے کے بعد جب بیرن کے لیے خفیہ سروس کی سیکیورٹی ختم ہونے والی تھی تو میلانیا کے دفتر نے سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سے سیکیورٹی میں توسیع کی درخواست کی تھی، جسے منظور کرلیا گیا تھا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رواں ہفتے ایرانی سرکاری ٹی وی پر ایک ایسا پروگرام نشر کیا گیا جس میں ٹرمپ خاندان کو دھمکی دی گئی اور بیرن ٹرمپ تک پہنچنے کے ممکنہ طریقوں پر گفتگو کی گئی۔رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ میڈیا کی جانب سے تیار کیا گیا اور سرکاری ٹی وی کے چینل 3 پر نشر ہونے والے پروگرام کا عنوان ’’بیرن ٹرمپ کو کہاں قتل کیا جائے؟‘‘ تھا۔پروگرام میں مبینہ طور پر بیرن کی نقل و حرکت کو بیان اور تصویری انداز میں دکھایا گیا، جبکہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے۔گزشتہ ماہ بھی ایرانی سرکاری ٹی وی پر ایک ویڈیو نشر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس میں خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا تھا اور اختتام پر بیرن ٹرمپ کو براہِ راست دھمکی دی گئی تھی۔
امریکی خفیہ سروس نے بیرن ٹرمپ کو قتل کرنے کی دھمکی سے متعلق مبینہ ایرانی ویڈیو کا نوٹس لے لیا ہے۔خفیہ سروس کے ترجمان نیٹ ہیرنگ نے کہا کہ ادارہ ویڈیو سے آگاہ ہے اور اپنے زیرِ حفاظت افراد کے لیے خطرہ سمجھی جانے والی ہر چیز کی تحقیقات کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ حفاظتی معاملات سے متعلق آپریشنل سیکیورٹی کے باعث مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔دوسری جانب ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے ٹرمپ کے بیٹے کو قتل کرنے کی ممکنہ سازش سے متعلق رپورٹس کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے جمعرات کو لبنان کے میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان الزامات کی تردید کی۔
