لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس تنویر احمد شیخ کا پبلک سروس وہیکل ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق فیصلہ سامنے آیا ہے.
لاہور ہائیکورٹ نے بس کی ٹکر سے چار نوجوانوں کی ہلاکت کے مقدمے میں بس ڈرائیور کی ضمانت خارج کردی،بغیر پبلک سروس وہیکل ڈرائیونگ لائسنس بس چلانا غیر قانونی ہے جسٹس تنویر احمد شیخ نے قانونی نکتہ طے کردیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ بغیر پی ایس وی لائسنس بس چلانے والے ڈرائیور کی جانب سے حادثے میں ہلاکت پر دفعہ 322 لاگو ہوگی،دفعہ 322 کے تحت سزا صرف دیت ہے، ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتی، غیر قانونی طور پر گاڑی چلانے والا اپنی اور مسافروں سمیت عوام کی جان خطرے میں ڈالتا ہے، ملزم کا بس چلانا پنجاب موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کی صریح خلاف ورزی تھا،ملزم کو جھوٹا پھنسانے کے لیے مدعی یا بس مالکان کی جانب سے بدنیتی کا کوئی ثبوت نہیں ملا،ایف آئی آر میں نام شامل نہ ہونے اور ضمنی بیان میں تاخیر کا فائدہ ملزم کو نہیں دیا جاسکتا، دفعہ 322 کے تحت جرم قابلِ دست اندازی اور ناقابلِ ضمانت ہے،ہر مقدمے میں ضمانت کا فیصلہ حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے،چار افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں ملزم کا ملوث ہونا بادی النظر میں خارج از امکان نہیں،
ملزم کے خلاف ریاض حسین کے خلاف تھانہ صدر شجاع آباد میں 15 نومبر 2025 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا ،حادثے میں موٹر سائیکل سوار چاروں افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے تھے
