ممبئی: بھارت میں نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی کے درمیان ایک منفرد سماجی و روحانی رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جسے "بھجن کلبنگ” کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس نئے انداز میں روایتی نائٹ کلب، شراب اور منشیات کی بجائے صدیوں پرانے ہندو مذہبی بھجن، اجتماعی عبادت، روحانی سکون اور جدید کنسرٹ جیسا ماحول نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔
ممبئی میں منعقد ہونے والے ایک ایسے ہی بڑے پروگرام میں تقریباً پانچ ہزار نوجوانوں نے شرکت کی۔ شام ڈھلتے ہی شرکاء جدید کنسرٹ کی طرز پر بڑے ہال میں داخل ہوئے، جہاں عام موسیقی یا ڈی جے کی بجائے ہندو مذہبی بھجنوں کی گونج سنائی دی۔ پروگرام کے آغاز سے قبل شرکاء نے اپنے جوتے اتارے، فرش پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے اور پھر اجتماعی انداز میں بھجن، تالیوں، رقص اور ذکر میں شریک ہو گئے۔اس منفرد تقریب کی سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ یہاں شراب، سگریٹ، ویپنگ اور ہر قسم کی منشیات پر مکمل پابندی تھی۔ منتظمین کے مطابق تقریب کا مقصد نوجوانوں کو ایک ایسا تفریحی ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ کسی نشے کے بغیر خوشی، موسیقی اور روحانی سکون حاصل کر سکیں۔
25 سالہ جل ویرا نے، جو پہلی بار اس تقریب میں شریک ہوئیں، کہا کہ یہ ان کی زندگی کا منفرد تجربہ تھا۔انہوں نے بتایا”یہ صرف ایک کنسرٹ نہیں بلکہ خدا کے قریب لے جانے والا تجربہ تھا۔ عام کنسرٹس میں سگریٹ، ویپنگ اور شراب عام ہوتی ہے، مگر یہاں میں نے چھاچھ پی اور یہی میرے لیے شراب کی جگہ تھی۔”
بھجن صدیوں سے بھارت میں مندروں، مذہبی جلوسوں اور سماجی تقریبات کا حصہ رہے ہیں، تاہم بھجن کلبنگ میں انہیں جدید انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔تقریبات میں جدید ایل ای ڈی اسکرینیں، لائٹ شو، دھوئیں کے خصوصی ایفیکٹس، فائر شو، طاقتور ساؤنڈ سسٹم اور کنسرٹ جیسی پروڈکشن استعمال کی جاتی ہے، جس سے نوجوان نسل خود کو اس ماحول سے زیادہ قریب محسوس کرتی ہے۔
26 سالہ دھونی پراڈیا کہتی ہیں کہ یہی جدید انداز نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے ان کے مطابق "دھواں، روشنی، آگ کے ایفیکٹس اور موسیقی کی لے ہماری نسل کو متاثر کرتی ہے۔”ان کی بہن فیونی پراڈیا نے کہا کہ یہ ماحول بالکل ویسا محسوس ہوتا ہے جیسا کسی ٹیکنو یا الیکٹرانک میوزک فیسٹیول میں ہوتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں موسیقی کی جگہ بھجن ہوتے ہیں۔
اس تحریک کے مرکزی فنکاروں میں شامل بھائی بہن کی جوڑی بچپن سے بھجن گا رہی ہے اور اب وہ انہیں جدید انداز میں نوجوانوں تک پہنچا رہی ہے۔فنکار راگھو اگروال کا کہنا ہے "شراب اور کلبنگ دو الگ چیزیں ہیں۔ شراب نشہ ہے، جبکہ کلبنگ کا اصل مطلب خوشی منانا ہے۔”ان کی بہن پراچی اگروال کے مطابق ان تقریبات میں نوجوان اپنے والدین، دادا دادی، دوستوں یا حتیٰ کہ اپنے شریکِ حیات کے ساتھ بھی آ سکتے ہیں۔
بھجن کلبنگ کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں، جن میں ہزاروں نوجوان روشنیوں کے درمیان بھجن گاتے، رقص کرتے، ایک دوسرے کو گلے لگاتے اور جذباتی انداز میں عبادت کرتے نظر آتے ہیں۔بھارت کی معروف میوزک کمپنی سریگاما نے بھی اس رجحان کی حمایت شروع کر دی ہے، جس سے اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
اگرچہ بہت سے لوگ اس رجحان کو نوجوانوں کو روحانیت کی طرف راغب کرنے کا مثبت ذریعہ قرار دیتے ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس انداز میں روحانیت ایک تجارتی اور نمائشی سرگرمی بنتی جا رہی ہے، جس سے عبادت کی اصل روح متاثر ہو سکتی ہے۔بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس رجحان کی تعریف کر چکے ہیں۔انہوں نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ نوجوان نسل نے بھجنوں کو اپنی جدید زندگی کا حصہ بنایا ہے جبکہ ان کی وقار اور پاکیزگی بھی برقرار رکھی ہے۔
ان تقریبات کے منتظم نکُنج گپتا، کا کہنا ہے کہ ان پروگراموں میں زیادہ تر کالج کے طلبہ، نئی ملازمتیں شروع کرنے والے نوجوان اور نوجوان پیشہ ور افراد شریک ہوتے ہیں۔ان کے مطابق "آج کے نوجوان شدید ذہنی دباؤ، بے چینی اور ملازمتوں کے سخت مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں آ کر انہیں سکون، خوشی اور اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔”
بھارت کی اوسط عمر تقریباً 29 سال ہے، جس کے باعث یہ دنیا کی نوجوان ترین آبادی والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق روزگار کے محدود مواقع، سخت مسابقت اور معاشرتی دباؤ کے باعث نوجوان ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ ایسے اجتماعات انہیں وقتی طور پر ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں۔بھجن کلبنگ اب صرف ممبئی تک محدود نہیں رہا بلکہ دہلی، بنگلورو سمیت بھارت کے مختلف شہروں میں بھی ایسے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ آسٹریلیا، امریکہ اور برطانیہ میں مقیم بھارتی کمیونٹیز بھی اسی طرز کی تقریبات کا انعقاد شروع کر چکی ہیں۔شرکاء کا کہنا ہے کہ یہ صرف موسیقی یا عبادت نہیں بلکہ ایک ایسا اجتماعی تجربہ ہے جہاں نوجوان بغیر کسی نشے کے خوشی، روحانی سکون اور سماجی تعلق کا احساس حاصل کرتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ نیا رجحان تیزی سے مقبول ہوتا جا رہا ہے۔
