امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے مجوزہ “بورڈ آف پیس” کی رکنیت فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
امریکی جریدے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مختلف ممالک سے اس بورڈ کی مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کا مطالبہ کر رہی ہے تجویز میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ خود اس بورڈ آف پیس کے چیئرمین ہوں گے، جبکہ بورڈ کی رکنیت، فیصلوں کی حتمی منظوری اور مالی وسائل کے استعمال کا اختیار بھی انہی کے پاس ہوگا، جو ممالک پہلے سال ایک ارب ڈالر ادا کریں گے، انہیں رکنیت کی مدت کی کسی حد سے استثنیٰ حاصل ہوگا اس اقدام کا مقصد غزہ سے متعلق فیصلوں اور مالی معاملات کے لیے ایک مرکزی بین الاقوامی فورم قائم کرنا بتایا جا رہا ہے اس مجوزہ منصوبے نے عالمی سفارتی حلقوں میں بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ اس پر مختلف ممالک کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کراچی: آٹا مزید مہنگا ہونے کا امکان
بھارت اور بنگلا دیشی کپتانوں کے ہاتھ نہ ملانے کا معاملہ،بی سی بی نے وضاحت جاری کر دی
