Baaghi TV

بہاماس میں طیارہ حادثہ، لاپتا خاندان کے چار افراد کی لاشیں مل گئیں

بہاماس سے فلوریڈا واپس آنے والے نجی طیارے کے حادثے کے بعد لاپتا ہونے والے ایک ہی خاندان کے چار افراد کی لاشیں تلاش کے دوران مل گئی ہیں۔

حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں 80 سالہ ماریو لامار، ان کی 79 سالہ اہلیہ لیلی لامار اور ان کے دو پوتے، 28 سالہ صوفیہ سوسا اور 22 سالہ کرسچن سوسا سوار تھے۔خاندانی ذرائع کے مطابق ماریو لامار خود طیارہ اڑا رہے تھے۔ حادثے کے بعد خاندان کے افراد اور مقامی شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سمندری علاقے میں تلاش کا عمل شروع کیا۔ بالآخر اہل خانہ نے منگل کی صبح چاروں افراد کی لاشیں تلاش کر لیں اور انہیں اپنی کشتیوں کے ذریعے ساحل تک منتقل کیا۔خاندان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تلاش اور امدادی کارروائی میں حصہ لینے والے تمام افراد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا اور خاندان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھا۔ اہل خانہ نے سوگ کے دوران رازداری کا احترام کرنے کی بھی اپیل کی۔

رپورٹ کے مطابق صوفیہ اور کرسچن سوسا کے والد، ان کے دو بھائی اور ایک چچا حادثے کی اطلاع ملتے ہی بحاماس پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے کئی گھنٹوں تک کشتیوں کے ذریعے سمندری علاقے میں اپنے پیاروں کی تلاش جاری رکھی۔خاندان کے مطابق اب وہ کوسٹ گارڈ کے تعاون سے لاشوں کو مکمل احترام اور وقار کے ساتھ وطن واپس لانے کے انتظامات کر رہے ہیں۔

رائل بہاماس پولیس فورس کے مطابق پانچ نشستوں والا PA-34 پائپر طیارہ پیر کی سہ پہر تقریباً 2 بج کر 20 منٹ پر اینڈروس آئی لینڈ سے تقریباً 13 میل مغرب میں سمندر میں گر کر تباہ ہوا۔طیارے نے اسی روز صبح گریٹ ہاربر کَے سے اڑان بھری تھی اور اس کا رخ فلوریڈا کے اوپا لوکا کی جانب تھا۔ خاندان نے لیبر ڈے ویک اینڈ بحاماس میں اپنے گھر پر گزارا تھا اور وطن واپس جا رہا تھا۔فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق حادثے سے قبل طیارے کی رفتار میں تیزی سے اتار چڑھاؤ آیا جبکہ اس کی بلندی صرف تین منٹ کے دوران تقریباً 10 ہزار فٹ سے کم ہو کر 3 ہزار 700 فٹ رہ گئی، جس کے بعد طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا۔خاندان کے مطابق ماریو لامار ایک تجربہ کار اور تربیت یافتہ پائلٹ تھے اور انہیں 40 سال سے زائد عرصے سے طیارہ اڑانے کا تجربہ حاصل تھا۔

دوسری جانب صوفیہ سوسا نے حال ہی میں ویک فاریسٹ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی تھی جبکہ ان کے بھائی کرسچن سوسا نے بھی حال ہی میں لویولا میری ماؤنٹ یونیورسٹی سے گریجویشن کی تھی۔حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔

More posts