لندن: برطانیہ میں متعدد مردوں کے خلاف جنسی زیادتی کے جھوٹے الزامات عائد کرنے والی 26 سالہ خواجہ سراخاتون خلوئی سیمنڈز کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں ساڑھے سات سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
خلوئی سیمنڈز نے کئی برس کے دوران متعدد مردوں پر ریپ اور جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے، جس کے نتیجے میں پولیس کا سیکڑوں گھنٹے کا وقت ان مقدمات کی تحقیقات میں صرف ہوا اور کئی افراد کو گرفتار کرکے بعد میں رہا کرنا پڑا۔ہارو کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ جولائی 2018 سے جنوری 2026 تک سیمنڈز کی جانب سے جھوٹے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رہا۔ جج نے اسے محض ایک واقعہ قرار دینے کے بجائے ’’مسلسل طرزِ عمل‘‘ قرار دیا۔عدالت کے مطابق ایک موقع پر خلوئی سیمنڈز کے الزامات ہارو، شمال مغربی لندن میں رپورٹ ہونے والے ریپ اور سنگین جنسی حملوں کے مجموعی مقدمات کا تقریباً 2.5 فیصد بن گئے تھے۔جج نے ریمارکس دیے کہ جھوٹے الزامات نے پولیس کو سنگین جرائم کے حقیقی متاثرین کی تحقیقات سے دور کیا اور پولیس کے قیمتی وسائل ضائع ہوئے۔
ایک مقدمے میں سیمنڈز نے دعویٰ کیا کہ ایک افغان شخص نے چاقو کے زور پر اسے زبانی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مذکورہ شخص گرفتار ہوا اور تقریباً 88 روز تک تحقیقات کا سامنا کرتا رہا، تاہم اس نے مؤقف اختیار کیا کہ سیمنڈز نے خود اس سے قربت اختیار کرنے کی کوشش کی تھی جسے اس نے مسترد کر دیا تھا۔ایک اور واقعے میں ایک شیف کو سیمنڈز نے گرائنڈر پر ملاقات کے بعد اپنے فلیٹ پر بلایا۔ وہ شخص مبینہ طور پر بے آرامی محسوس کرنے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔ اس کے بعد سیمنڈز نے ایمرجنسی نمبر 999 پر کال کرکے الزام عائد کیا کہ مذکورہ شخص نے اس کے مشروب میں کوئی چیز ملانے کے بعد اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے اس شخص کو اس کے گھر سے گرفتار کیا اور اسے تقریباً 20 گھنٹے پولیس اسٹیشن میں گزارنے پڑے۔ایک اور واقعے میں سیمنڈز نے ایک ڈیٹ کے بعد ٹیکسی کے ذریعے گھر جاتے ہوئے ڈرائیور پر ریپ کا الزام عائد کیا۔ تاہم پولیس کی تحقیقات میں ٹیکسی کے جی پی ایس ڈیٹا نے دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔ جی پی ایس ریکارڈ کے مطابق گاڑی راستے میں رکی ہی نہیں تھی اور اس کی رفتار 25 میل فی گھنٹہ سے کم بھی نہیں ہوئی تھی۔بعد ازاں سیمنڈز نے اعتراف کیا کہ ٹیکسی ڈرائیور کے خلاف عائد الزام جھوٹا تھا۔ اس واقعے کے بعد اسے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔
سیمنڈز نے عدالت میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے آٹھ الزامات کا اعتراف کیا۔دفاعی وکیل ڈومینک بینتھل نے عدالت کو بتایا کہ سیمنڈز کو آٹزم، اور شراب پر انحصار جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ وکیل کے مطابق اس وقت ایک بنیادی ذہنی صحت کی مشکل بھی موجود تھی۔سیمنڈز نے سزا سنائے جانے کی کارروائی کا آغاز لندن کی ورم ووڈ اسکرَبز جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے دیکھا، تاہم بعد میں وہ واپس اپنے سیل میں چلی گئی اور عدالت میں کارروائی میں مزید شرکت سے انکار کر دیا۔عدالت نے مسلسل جھوٹے الزامات اور پولیس کے وسائل کے بڑے پیمانے پر استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی۔
