Baaghi TV

بچپن کے دروازے پر دستک دیتی درندگی ،تحریر:شمسہ رانی

جب ایک ننی کلی بھی محفوظ نہ رہے تو سوال صرف قانون سے نہیں پورے معاشرے سے ہوتا ہے۔
کبھی بچپن کو زندگی کا سب سے محفوظ موسم سمجھا جاتا تھا۔ وہ عمر جس میں دنیا کی تلخیوں کا شعور نہیں ہوتا۔ جہاں انکھیں خواب دیکھتی ہیں اور ہاتھ کھلونوں کی طرف بڑھتے ہیں ۔مگر اج ڈیڑھ سالہ ایزل کے ساتھ پیش انے والا دل دہلادینے والے واقعے نے ایک بار پھر ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔

ڈیڑھ سال یہ عمر سوال پوچھنے کی نہیں ۔گود میں سمٹ جانے کی ہوتی ہے۔ یہ عمر دنیا کو سمجھنے کی نہیں دنیا سے محبت پانے کی ہوتی ہے ۔مگر جب ایسی معصوم جان بھی درندگی سے محفوظ نہ رہے تو پھر مسئلہ صرف ایک مجرم کا نہیں رہتا پورا معاشرہ سوال بن جاتا ہے۔ہم کب تک اپنی بیٹیوں کو احتیاط کے سبق پڑھاتے رہیں گے؟ کب ہم اپنی بیٹوں کو حرمت احترام اور انسانیت کا درس دیں گے؟ کب ہم یہ سمجھیں گے کہ عورت کی حفاظت صرف اس کے گھر والوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کا اخلاقی فرض ہے؟

آج خوف کی عمر مقرر نہیں ننھی بچی ہو یا نوجوان لڑکی عورت ہو یا ماں عدم تحفظ کا احساس ہمارے معاشرتی وجود میں سرایت کرتا جا رہا ہے ۔یہ صورتحال صرف تشویش ناک نہیں۔ ہماری اجتماعی تربیت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ہم ہر واقعے کے بعد چند دن غم مناتے ہیں ۔مذمت کرتے ہیں سوشل میڈیا پر اواز اٹھاتے ہیں۔ پھر زندگی معمول پر ا جاتی ہے۔ مگر کسی ماں کے دل میں پیدا ہونے والا خوف معمول پر نہیں اتا ۔کسی گھر کی خاموشی معمول پر نہیں اتی کسی معصوم کے چھینے گئے اعتماد کو چند بیانات واپس نہیں لا سکتے۔

ضرورت صرف سخت قانون کی نہیں، سخت اجتماعی شعور کی بھی ہے۔ بچوں کو محفوظ ماحول دینا ان کی بات سننا مشکوک رویوں کو نظر انداز نہ کرنا تعلیمی اداروں اور گھروں میں حفاظتی اگاہی پیدا کرنا اور مجرموں کو قانون کے مطابق جواب دہ بنانا یہ سب ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یاد رکھیے کسی بچے کے ساتھ ہونے والے جرم کا الزام کبھی بچے پر نہیں آتا۔ معصومیت کبھی جرم نہیں ہوتی جرم ہمیشہ مجرم کا ہوتا ہے۔ایزل کا واقعہ ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر ایک ننھی سی جان بھی ہماری حفاظت کے حصار میں محفوظ نہیں تو پھر ہماری ترقی، ہماری تہذیب اور ہماری اخلاقی اقدار کے دعوے کس کام کے؟اب وقت ہے کہ ہم صرف آنسو نہ بہائیں اپنے معاشرے کے ضمیر کو بیدار کریں۔ کیونکہ جس معاشرے میں بچپن محفوظ نہیں رہتا وہاں صرف بچے نہیں ڈرتے مستقبل ڈرنے لگتا ہے۔اور شاید آج سب سے بڑا سوال یہی ہے ہم اپنی بچیوں کو کب تک صرف یہ بتاتے رہیں گے کہ دنیا سے بچ کر رہو؟
کم ہم دنیا کو یہ سکھائیں گے کہ ہماری بچیوں کی حرمت کا خیال رکھو۔

More posts