پیرس: فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع دنیا کے معروف سیاحتی مقام ایفل ٹاور کو ملازمین کی ہڑتال کے باعث بند کردیا گیا۔ ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ ہندو مذہبی تنظیم کے ایک وفد کے دورے کے دوران خواتین ملازمین کو اپنی ڈیوٹی کی جگہوں سے ہٹنے کے لیے کہا گیا تاکہ وہاں مرد عملہ تعینات کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی ہندو تنظیم بوچاسانواسی اکشر پرشوتَم سوامی نارائن سنستھا (BAPS) سے وابستہ تقریباً 100 افراد نے ہفتے کے روز ایفل ٹاور کا دورہ کیا تھا۔ تنظیم نے اتوار کو پیرس میں ایک نئے ہندو مندر کا افتتاح بھی کیا۔ایفل ٹاور کے عملے کی یونین نمائندہ ڈیان داوائن نے صحافیوں کو بتایا کہ دورے کے دوران خواتین سے کہا گیا کہ وہ اپنی کام کی جگہیں چھوڑ دیں تاکہ وہاں مرد ملازمین تعینات کیے جاسکیں۔ ان کے مطابق اس واقعے پر خواتین ملازمین کو شدید تحقیر اور بے عزتی کا احساس ہوا، جس کے باعث عملے میں سخت ردعمل سامنے آیا۔پیرس کے میئر ایمانوئل گریگوائر نے معاملے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین اور مردوں کے ساتھ امتیازی سلوک فرانس اور ایفل ٹاور کی اقدار کے منافی ہے۔
ایفل ٹاور آپریٹنگ کمپنی نے بھی تسلیم کیا کہ مذہبی وفد نے ایسے انتظامات کی درخواست کی تھی جن کے تحت خواتین سے رابطے کو محدود کیا جائے۔ کمپنی کے مطابق ایسی شرائط کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ تنظیم کے مطابق وفد کا دورہ ایفل ٹاور انتظامیہ کے ساتھ رابطے اور معمول کے اوقاتِ کار شروع ہونے کے موقع پر کیا گیا تاکہ دیگر سیاحوں کو کم سے کم خلل کا سامنا ہو۔ہ اس کے علم کے مطابق کسی شخص کو ایفل ٹاور میں داخلے سے نہیں روکا گیا اور کسی تکلیف یا زحمت پر وہ خلوصِ دل سے معذرت خواہ ہے۔پیرس میں تنظیم کے نمائندوں نے مزید کہا کہ خواتین کے حوالے سے کوئی درخواست صنفی بنیاد پر نہیں کی گئی تھی اور اس کے برعکس تاثر تنظیم کی اقدار کی عکاسی نہیں کرتا۔
واقعے نے فرانس میں صنفی مساوات کے حوالے سے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ فرانس کی وزیر برائے صنفی مساوات اور امتیازی سلوک کے خلاف جدوجہد، اورور بیرژے، نے مبینہ واقعے کو ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانس میں صنفی مساوات قابلِ گفت و شنید اصول نہیں اور اس کے لیے کوئی استثنا نہیں ہو سکتا۔
واقعے کی خبر بھارت میں بھی نمایاں طور پر زیر بحث رہی، جہاں بعض سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایفل ٹاور انتظامیہ نے مبینہ طور پر ایسی درخواست پر عمل کیوں کیا، جبکہ بعض دیگر نے اس واقعے کو بھارت اور ہندو مذہب کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
BAPS کے مطابق حالیہ دنوں میں فرانس میں اس کے ہزاروں ہندو پیروکار مختلف تقریبات اور جلوسوں میں شریک ہوئے۔ تنظیم نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے پیرس کے نواحی علاقے بوسی سینٹ جارجز میں خواتین اور بچیوں کی قیادت میں جلوس بھی نکالا گیا، جبکہ دریائے سین پر ہونے والی ایک کشتی ریلی میں دنیا بھر سے 5,500 سے زائد ہندو عقیدت مندوں نے شرکت کی۔یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس میں صنفی مساوات اور سیکولرازم کو اہم آئینی اور سماجی اصولوں کی حیثیت حاصل ہے، جس کے باعث ایفل ٹاور میں پیش آنے والے مبینہ واقعے پر سیاسی اور عوامی سطح پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔
