Baaghi TV

اسرائیل کا یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر برطانیہ کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے ردعمل میں مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت کے اقدامات کے جواب میں اسرائیل نے برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے اور اسرائیلی حکومت شہر پر اپنی مکمل خودمختاری کا دعویٰ کرتی ہے، اس لیے غیر ملکی سرگرمیاں اسرائیل کی خودمختاری میں مداخلت کے بغیر طے شدہ طریقہ کار کے تحت ہونی چاہئیں۔مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانہ برطانیہ کے لیے مغربی کنارے اور غزہ سے متعلق سفارتی، سیاسی، تجارتی، سکیورٹی اور اقتصادی امور میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ قونصل خانے کی بندش کے نتیجے میں برطانیہ کی فلسطینی علاقوں میں براہِ راست سفارتی سرگرمیوں اور رسائی کو شدید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، کیونکہ مغربی کنارے یا غزہ میں برطانیہ کا کوئی دوسرا قونصلر مرکز موجود نہیں۔

برطانیہ کے 12 افراد پر اسرائیل میں داخلے کی پابندی
اسرائیلی وزیر خارجہ نے برطانوی قونصل خانے کی بندش کے ساتھ مزید جوابی اقدامات کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق برطانیہ کے 11 ارکان پارلیمنٹ اور ایک شہری کو اسرائیل میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے ان افراد پر مبینہ طور پر اسرائیل مخالف اور یہود مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے یا اسرائیل کی ریاست کے وجود کو تسلیم نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔داخلے سے روکے گئے برطانوی ارکان پارلیمنٹ میں سابق لیبر رہنما جیریمی کوربن، زارا سلطانہ، ناز شاہ، ڈیان ایبٹ، گرین پارٹی کی ہنّا اسپینسر، کارلا ڈینائر، سیان بیری، ایلی چاؤنز، سابق شیڈو چانسلر جان میک ڈونل، رچرڈ برگن اور گرین پارٹی کے سابق شریک رہنما ایڈرین ریمزی شامل ہیں۔اس کے علاوہ ’’ریور وے ٹو دی سی‘‘ کے ڈائریکٹر فہد انصاری کو بھی اسرائیل میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔

اسرائیل نے برطانوی تربیتی سرگرمیوں پر بھی پابندی لگادی
گیڈون ساعر نے کہا کہ غزہ اور اسرائیل میں کام کرنے والے بعض برطانوی نمائندوں کو بھی نکالا جائے گا۔ ان کے مطابق اسرائیل میں برطانوی حکومت کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کی تربیت سے متعلق سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔اسرائیلی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل مستقبل میں بھی اپنی صوابدید کے مطابق مزید جوابی اقدامات کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو حکومت اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی، اسرائیل بھی اس کے خلاف کارروائی کرے گا اور ایسی حکومتیں خطے میں اپنا اثر و رسوخ اور اہمیت کھو دیں گی۔

برطانیہ کا اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات کے خلاف بڑا اقدام
یہ کشیدگی برطانیہ کی جانب سے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے اعلان کے بعد پیدا ہوئی۔برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع اور آبادکاروں کے تشدد سے دو ریاستی حل کو خطرہ لاحق ہے۔برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد روکنے اور ان بستیوں اور ان سے فائدہ اٹھانے یا انہیں سہولت فراہم کرنے والے بعض افراد اور اداروں کے خلاف ہدفی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تینوں ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ اس حل کے لیے براہِ راست اور فوری خطرہ ہے۔

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ حکومت کے اقدامات اسرائیلی عوام کے خلاف نہیں بلکہ دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں۔ان کے مطابق فلسطینی عوام کی تکالیف عالمی ضمیر پر ایک داغ ہیں، غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں، جن میں بچے بھی شامل ہیں، کی ہلاکتیں جاری ہیں جبکہ انسانی بحران کے باوجود ضرورت کے مطابق امداد نہیں پہنچ رہی۔برنہم نے کہا کہ برطانیہ اپنی اقدار کے دفاع اور خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

برطانیہ کے علاوہ فرانس اور کینیڈا نے بھی اسرائیلی بستیوں کے خلاف اسی نوعیت کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع عالمی قانون کے تحت غیر قانونی ہے اور اس عمل کو روکنے کے لیے مربوط بین الاقوامی اقدامات ضروری ہیں۔تینوں رہنماؤں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اسرائیل کی سلامتی اور فلسطینی ریاست کے قیام، دونوں کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی اور دونوں فریقوں کے لیے پرامن بقائے باہمی پر مبنی دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

برطانوی حکومت کے فیصلے پر ملک کے اندر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ برطانوی چیف ربی سر ایفرائیم میروِس نے اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کو برطانیہ کے یہودیوں کے لیے ’’انتہائی تاریک دن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات امن کے مقصد کو آگے بڑھانے کے بجائے اسرائیل مخالف ماحول کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔دوسری جانب برطانوی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی سلیکٹ کمیٹی کی چیئر ڈیم ایملی تھورن بیری نے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی ایک ایسا اقدام ہے جو بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے لیے دیرپا امن کا راستہ دو ریاستی حل سے ہی نکل سکتا ہے۔لندن کے میئر صادق خان نے بھی حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی سرزمین پر قائم اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندی عائد کرکے برطانیہ نے درست قدم اٹھایا ہے۔

برطانوی اقدام کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس معاملے پر ابتدائی ردعمل دیا ہے۔ تاہم برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے تناظر میں واشنگٹن کا آئندہ مؤقف اہم سمجھا جا رہا ہے۔سابق برطانوی کابینہ سیکریٹری مارک سیڈول نے حکومت کو خبردار کیا کہ پابندیوں کے ممکنہ سفارتی اور سکیورٹی نتائج سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون کو برقرار رکھنا بھی اہم ہے، جبکہ امریکا کے ممکنہ ردعمل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

More posts