وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں نئے مقامی حکومتوں کے نظام کی منظوری دے دی، جس کے بعد دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد لوکل گورنمنٹ بل منظوری کے لیے کل قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش کیا جائے گا۔ مجوزہ نئے بلدیاتی نظام کے تحت اسلام آباد کو تین حلقوں میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر حلقے میں الگ مقامی کونسل قائم ہوگی، جس کا اپنا میئر ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر کونسل 21 ارکان پر مشتمل ہوگی، جس میں جنرل کونسلرز کے علاوہ خواتین اور اقلیتوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔ نئے نظام کے تحت مقامی سطح پر اختیارات اور نمائندگی کے لیے کونسلز کو مرکزی کردار حاصل ہوگا۔
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے منظوری کے بعد اسلام آباد لوکل گورنمنٹ بل کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ پارلیمانی منظوری اور قانون سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد متعلقہ نوٹیفکیشنز اور حلقہ بندیوں کا مرحلہ آئے گا، جس کے بعد نئے بلدیاتی نظام کے تحت انتخابات کی راہ ہموار ہوگی۔
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ گزشتہ کئی برس سے قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کا شکار رہا ہے۔ جنوری 2026 میں وفاقی حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا، جس کے بعد دارالحکومت کے موجودہ بلدیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کی راہ ہموار ہوئی۔ آرڈیننس کے اجرا کے بعد الیکشن کمیشن نے پہلے سے جاری بلدیاتی انتخابات کا شیڈول بھی واپس لے لیا تھا۔
بعد ازاں الیکشن کمیشن نے نئے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے ٹاؤن کارپوریشنز کی حدود، یونین کونسلز کی تعداد اور متعلقہ نقشے فراہم کرنے کے لیے وزارت داخلہ سے تفصیلات طلب کیں۔ جون 2026 میں وزارت داخلہ کی جانب سے 130 یونین کونسلز پر مشتمل مجوزہ ڈرافٹ بھی سامنے آیا تھا، جس کی منظوری کے بعد حلقہ بندیوں کا عمل شروع ہونا تھا۔
الیکشن کمیشن نے جولائی میں وفاقی حکومت کو مجوزہ انتظامی تبدیلیوں کی منظوری کے لیے مزید مہلت بھی دی تھی۔ اب نئے قانون کی پارلیمانی منظوری، متعلقہ نوٹیفکیشنز اور حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے گا۔
