امریکا: امریکی ریاست انڈیانا میں ایک خاتون ٹیچر کو 14 سالہ مڈل اسکول کے طالب علم کو اپنی برہنہ تصاویر بھیجنے اور نامناسب آن لائن رابطے کے مقدمے میں عدالت نے دو سال قید کی سزا سنا دی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 21 سالہ کیسیڈی کارٹر نے عدالت میں جرم کا اعتراف کرتے ہوئے دو الزامات میں قصوروار ہونے کا اقرار کیا، جس کے بعد جج نے اسے دو سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے بتایا کہ سزا میں اسے پہلے سے حراست میں گزارے گئے دو دن بھی شمار کیے جائیں گے۔ابتدائی طور پر خاتون ٹیچر کے خلاف کم عمر بچے کو جنسی مقاصد کے لیے ورغلانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں استغاثہ نے الزامات میں تبدیلی کی۔ پراسیکیوٹر کے مطابق متاثرہ طالب علم اپنے خاندان کے ساتھ علاقے سے منتقل ہو چکا تھا اور وہ مزید عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا، جس کے باعث مقدمے کی نوعیت تبدیل کی گئی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق کیسیڈی کارٹر اس وقت ساؤتھ ڈئربورن کمیونٹی اسکول کارپوریشن میں بطور متبادل ٹیچر خدمات انجام دے رہی تھی۔ اسی دوران اس کی 14 سالہ طالب علم سے اسنیپ چیٹ کے ذریعے دوستی ہوئی۔تحقیقات کے مطابق دونوں کے درمیان ہونے والی آن لائن گفتگو کے دوران خاتون ٹیچر رات گئے طالب علم کو اپنی برہنہ تصاویر بھیجتی رہی۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ طور پر ہر بار نہانے کے بعد اپنی تصاویر بھیجتی تھی اور طالب علم کو یہ بھی کہتی تھی کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق دسمبر 2023 میں متاثرہ طالب علم نے اسکول کے ریسورس آفیسر کو پورے معاملے سے آگاہ کیا، جس کے بعد اسکول کے پرنسپل کو بھی اطلاع دی گئی اور تحقیقات کا آغاز ہوا۔پولیس نے خاتون ٹیچر کا موبائل فون قبضے میں لے کر فرانزک معائنہ کیا، جہاں سے مبینہ طور پر برہنہ تصاویر اور طالب علم کے ساتھ ہونے والی متعدد پیغامات برآمد ہوئے، جنہیں استغاثہ نے عدالت میں اہم شواہد کے طور پر پیش کیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ، اساتذہ اور طلبہ کے درمیان سوشل میڈیا رابطوں کی نگرانی، اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین، اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کو آن لائن خطرات سے آگاہ کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
