Baaghi TV

افغانستان میں سابق انٹیلیجنس افسر اور قبائلی عمائدین قتل

amayed

افغانستان کے صوبوں دایکندی اور غزنی میں 2 الگ الگ واقعات میں سابق افغان انٹیلیجنس افسر اور ایک قبائلی بزرگ کو قتل کر دیا گیا-

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق مقامی ذرائع نے بتایا کہ دایکندی کے ضلع شہرستان میں سابق سیکیورٹی اہلکار اور انٹیلیجنس افسر محمد علی طوفان کو جمعرات کی شام نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی اور سابق افغان حکومت کے خاتمے کے بعد وہ طالبان کی عام معافی کے اعلان پر اعتماد کرتے ہوئے افغانستان ہی میں مقیم رہے۔

ذرائع کے مطابق طالبان انٹیلیجنس نے تقریباً 2 سال قبل انہیں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) سے مبینہ تعلق کے شبہے میں گرفتار کیا تھاوہ کابل کی پل چرخی اور پروان کی بگرام جیل میں قید رہے اور تقریباً 5 ماہ قبل رہائی کے بعد دوبارہ زراعت سے وابستہ ہو گئے تھےمقتول اپنے پیچھے 6 بچوں کو سوگوا ر چھوڑ گئے ہیں۔

دوسری جانب صوبہ غزنی کے ضلع قرہ باغ میں قبائلی بزرگ قادر علی رفعت کی لاش 24 گھنٹے بعد برآمد ہوئی، ذرائع کے مطابق وہ 16 جولائی کی صبح موٹر سائیکل پر علی آباد تمکی بازار کے لیے گھر سے نکلے تھے، تاہم واپس نہ آئے مقامی افراد نے تلاش کے بعد ان کی لاش برآمد کی، جس پر تشدد اور زخموں کے واضح نشانات موجود تھے۔

دونوں واقعات کے ذمہ داروں اور محرکات کا تاحال تعین نہیں ہو سکا، جبکہ طالبان حکام نے بھی ان ہلاکتوں پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔

More posts