Baaghi TV

میامی کی معروف ٹی وی اینکر کی بکنی تصاویر پر تنازع، سوشل میڈیا پالیسی پر نئی بحث

امریکا کی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی سے تعلق رکھنے والی معروف ٹی وی نیوز اینکر جنیس فرنانڈیزایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہیں، تاہم اس مرتبہ وجہ ان کی صحافتی رپورٹنگ نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی چھٹیوں کی تصاویر ہیں، جنہوں نے صحافتی حلقوں میں پیشہ ورانہ حدود اور ذاتی آزادی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

چھ مرتبہ ایمی ایوارڈ جیتنے والی اینکر اور سابق مس میامی جنیس فرنانڈیز نے چند ماہ قبل فجی کے سیاحتی دورے کے دوران اپنی انسٹاگرام پروفائل پر کئی تصاویر شیئر کیں۔ ان تصاویر میں وہ سرخ رنگ کی بکنی میں مشہور کلاؤڈ 9 فلوٹنگ ریزورٹ کے شفاف پانیوں میں لطف اندوز ہوتی، ساحلی بار کے قریب وقت گزارتی اور دوستوں کے ساتھ خوشگوار لمحات مناتی دکھائی دیں۔انہوں نے ایک تصویر کے ساتھ لکھا "اب مجھے اندازہ ہوا کہ کلاؤڈ 9 فجیکا تجربہ کیسا ہوتا ہے۔”

ان تصاویر پر اس وقت زیادہ توجہ اس لیے دی جا رہی ہے کیونکہ ان کے ٹی وی اسٹیشن WPLG کی انتظامیہ نے کچھ عرصہ قبل ملازمین کو ایک سخت ہدایت نامہ جاری کیا تھا، جس میں صحافیوں کو سوشل میڈیا پر "انفلوئنسر” جیسا رویہ اختیار کرنے سے منع کیا گیا تھا۔اس یادداشت میں نیوز ڈپارٹمنٹ کے نائب صدر نے لکھا تھا کہ "ہمارے بہت سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس فضول اور غیر سنجیدہ مواد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔”انہوں نے واضح کیا تھا کہ نیوز روم کے ملازمین کو ڈانس ویڈیوز، فیشن شو، "آؤٹ فٹ آف دی ڈے” یا ایسی دیگر سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے جو صحافی کی پیشہ ورانہ ساکھ کو متاثر کریں۔انہوں نے مزید ہدایت دی تھی کہ نیوز روم، اسٹوڈیو یا نیوز سیٹ کو اس نوعیت کے مواد کی تیاری کے لیے ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔میمو میں بل پوہووی نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ اگرچہ ملازمین کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نجی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن وہ ہر وقت ادارے کی نمائندگی کرتے ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صحافت پہلے ہی عوامی اعتماد کے بحران سے دوچار ہے اور غیر سنجیدہ سوشل میڈیا سرگرمیاں اس صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنیس فرنانڈیز کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد خود بل پوہووی نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان تصاویر نے ادارے کی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کی۔انہوں نے کہا "میمو میں ملازمین کو چھٹیوں کی تصاویر یا روزمرہ زندگی کی جھلکیاں شیئر کرنے سے نہیں روکا گیا تھا۔”انہوں نے مزید کہا کہ "ہم فلوریڈا میں رہتے ہیں، یہاں ساحل سمندر پر لوگ بکنی پہنتے ہیں۔ یہ تصاویر باوقار اور مناسب تھیں، ان میں کوئی غیر پیشہ ورانہ بات نہیں تھی۔”

جنیس فرنانڈیز نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز امریکی ریاست لوئیزیانا سے کیا، بعد ازاں پینساکولا میں خدمات انجام دیں اور 2014 میں اپنے آبائی شہر میامی واپس آ کر WPLG سے وابستہ ہو گئیں۔وہ اس وقت چینل کے ہفتہ وار دوپہر 3 بجے اور رات 10 بجے نشر ہونے والے مرکزی نیوز بلیٹن کی اینکر ہیں اور جنوبی فلوریڈا کی نمایاں ٹی وی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔

اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا صحافی اپنی ذاتی زندگی کی تصاویر اور سرگرمیاں سوشل میڈیا پر آزادانہ شیئر کر سکتے ہیں یا انہیں اپنی پیشہ ورانہ ساکھ کے پیش نظر اضافی احتیاط برتنی چاہیے۔اگرچہ ٹی وی اسٹیشن کی انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ جنیس فرنانڈیز کی تصاویر ادارے کی پالیسی کے خلاف نہیں تھیں، تاہم اس معاملے نے صحافت، ذاتی آزادی اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

More posts