Baaghi TV

پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے جماعت اسلامی سے 3 دن کا وقت مانگ لیا

اسلام آباد: جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، حکومتی ٹیم نے جماعت اسلامی سے مزید تین دن کی مہلت مانگ لی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی سے درخواست کی ہے کہ وہ مزید تین دن تک اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی حتمی کال موخر رکھے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر غور کیا جاسکے۔

حکومتی وفد سے مذاکرات کے لیے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کی سربراہی میں جماعت اسلامی کا وفد پنجاب ہاؤس پہنچا، جہاں حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہوا۔ حکومتی وفد کی قیادت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی، جبکہ ٹیم میں رانا ثناءاللہ، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور بلال اظہر کیانی شامل تھے۔

اس سے قبل 7 ستمبر کو بھی نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی سربراہی میں وفد نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے تھے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے 6 تجاویز اور سفارشات پیش کی تھیں۔

مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے بتایا کہ پنجاب ہاؤس میں جماعت اسلامی اور حکومتی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان بات چیت کا دوسرا دور ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم مصنوعات پر عوام کے لیے ریلیف چاہتی ہے اور پیٹرولیم لیوی ختم کی جانی چاہیے۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کو 6 نکات پیش کیے تھے، تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک واضح جواب نہیں ملا اور ’’آئیں بائیں شائیں‘‘ کے سوا کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے مزید تین دن کا وقت مانگا ہے، جبکہ بیوروکریٹس ہر معاملے میں مشکلات کا پہاڑ کھڑا کردیتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومتی وفد نے پیر تک لانگ مارچ کی حتمی کال موخر کرنے کی درخواست کی ہے۔

لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے عوام کو مطلوبہ ریلیف فراہم نہ کیا تو ملک بھر سے دھرنے اسلام آباد کی جانب چل پڑیں گے۔

More posts