ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ہم مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے ایران کی جانب سے اس وقت جو ملاقاتیں ہو رہی ہیں، ان کا مقصد صرف پہلے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
سرکاری میڈیا سے گفتگو میں قالیباف نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں سمندری خدمات کی فیس سے صرف 60 روزہ عارضی استثنا دیا گیا ہے تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران اپنے مؤقف میں کوئی نرمی لائے گا آبنائے ہرمز ہماری علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے امریکا یہ تاثر دینے کی کوشش نہ کرے کہ ایران نے اس آبی گزرگاہ کو عسکری بنا دیا ہے ہم کسی بھی قیمت پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
قالیباف نے آبنائے ہرمز کو خدا کی عطا کردہ نعمت اور ایران کا سب سے مؤثر ذریعۂ طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی انتظامی اور قانونی امور پر ایران اور عمان کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہو چکا ہے، آبنائے ہرمز سے بغیر کسی ٹیکس یا لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، کیونکہ اس سمندری راستے پر اصل خودمختا ر ی اور حق صرف ایران اور عمان کا ہے اور وہاں بحری جہازوں کی آمدورفت انہی اصولوں کے مطابق ہوگی جو ایران طے کرے گاہم خلیج کے ساحلی ممالک کے ساتھ ہر وقت مشورہ کرتے رہتے ہیں، اگر امریکا نے ایران کو اپنا تیل بیچنے سے روکنے کی کوشش کی، تو پھر یاد رکھے کہ دنیا میں کوئی بھی تیل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق ایران، امریکا اور لبنان کے درمیان کشیدگی سے بچاؤ کے لیے ایک مشترکہ رابطہ سیل قائم کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے جس کے لیے تہران اور واشنگٹن اپنے نمائندے مقرر کر چکے ہیں جبکہ لبنان کی جانب سے بھی جلد نمائندہ نامزد کیے جانے کی توقع ہےایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد صرف دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں 4 کروڑ بیرل سے زائد تیل برآمد کیا جا چکا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مؤثر سفارت کاری اور مضبوط دفاعی طاقت مل کر نتائج دے سکتی ہیں۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام، دفاعی صلاحیتیں اور یورینیم افزودگی کا حق کسی بھی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ان کے بقول یورینیم افزودگی ہمارا قانونی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اگر تمام امریکی اور اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو مذاکرات جاری رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر مفاہمتی یادد اشت کی 60 روزہ مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
