بھارت رواں ہفتے فرانس کے ساتھ 36 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی معاہدے کی منظوری دینے جا رہا ہے، جس کے تحت بھارتی فضائیہ کے لیے 114 ڈسالٹ رافیل جنگی طیارے خریدے جائیں گے۔ رپورٹس کے مطابق یہ طیارے بھارت کو ان کے سورس کوڈ تک رسائی کے بغیر فروخت کیے جائیں گے، جبکہ ان میں تقریباً 30 فیصد مقامی طور پر تیار کردہ بھارتی پرزہ جات شامل ہوں گے۔
بھارت اور فرانس کے درمیان اس بڑے معاہدے پر مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ اکنامک ٹائمز کے مطابق یہ بات چیت فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے فروری میں متوقع دورۂ بھارت سے قبل تیز ہو گئی ہے۔ معاہدہ بھارت کے ملٹی رول فائٹر ایئرکرافٹ پروگرام سے جڑا ہوا ہے، جس کے تحت فضائیہ کے لیے 4.5 جنریشن کے 114 نئے لڑاکا طیارے حاصل کیے جائیں گے۔
یہ طیارے بھارتی فضائیہ کے پرانے بیڑے، جن میں مگ 21، مگ 27، جیگوار اور میراج 2000 شامل ہیں، کی جگہ لیں گے۔ بھارتی فضائیہ نے رافیل طیاروں کی خریداری کے لیے حکومت سے حکومت کی سطح پر باضابطہ تجویز پیش کر رکھی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس معاہدے کی ایک اہم شرط مقامی سطح پر تیاری ہے۔ بھارتی کمپنی ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز لمیٹڈ پہلے ہی ڈسالٹ ایوی ایشن کے ساتھ معاہدے کر چکی ہے، جس کے تحت بھارت میں رافیل طیاروں کے فیوزلاج کے حصے تیار کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے حیدرآباد میں ایک خصوصی پیداواری یونٹ تعمیر کیا جا رہا ہے۔
یہ فیکٹری رافیل طیارے کے چار بڑے فیوزلاج حصے تیار کرے گی، جو نہ صرف بھارت بلکہ عالمی آرڈرز کے لیے بھی سپلائی ہوں گے۔ پیداواری یونٹ سے 2028 تک ڈیلیوری شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ سالانہ پیداواری صلاحیت 24 طیاروں تک پہنچائی جائے گی۔
ڈسالٹ رافیل کو پہلی بار 1980 کی دہائی میں فرانس نے متعارف کرایا تھا۔ یہ طیارہ میر اج ایف ون، جیگوار اور سپر ایٹینڈارڈ کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ رافیل مکمل طور پر فرانس کے کنٹرول میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا، جس کی وجہ سے فرانس کو اس کے سافٹ ویئر، ہتھیاروں کے انضمام اور اپ گریڈز پر مکمل خودمختاری حاصل ہے اور اس پر کسی بین الاقوامی برآمدی پابندی کا اطلاق نہیں ہوتا۔
بھارت کا فرانس سے 114 رافیل جنگی طیاروں کی 36 ارب ڈالر کی ڈیل کا امکان ہے
