امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کے مجوزہ بل کی بھرپور حمایت کر دی ہے-
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بل کی حمایت بعد عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے جبکہ بل کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، جہاں مسلسل چوتھے روز بھی مندی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کو چار دنوں میں تقریباً 9 لاکھ کروڑ روپے کا بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔
یہ نیا بل امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، جسے صدر ٹرمپ کی واضح حمایت حاصل ہو چکی ہے امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بل کی منظوری اگلے ہفتے متوقع ہے منظوری کی صورت میں صدر ٹرمپ کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف نافذ کر سکیں۔
منشیات فروشوں سے تعلق کے الزام میں 34 پولیس اہلکار معطل
ماہرین کے مطابق اس اقدام کا سب سے زیادہ اثر بھارت پر پڑنے کا امکان ہے، جو اس وقت روسی تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہےبھارت پہلے ہی امریکی تجارتی پالیسیوں کے باعث دباؤ میں ہے اور اس پر 50 فیصد امریکی ٹیرف عائد ہے، جس سے اس کی برآمدات اور مالی منڈی متاثر ہو رہی ہیں نئے مجوزہ ٹیرف نے بھارتی سرمایہ کاروں میں بے چینی مزید بڑھا دی ہے بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے رجحان نے بینکنگ، توانائی اور آئی ٹی سیکٹرز کو خاص طور پر متاثر کیا، جب کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرمایہ نکالے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
پی ایس ایل پر اعتماد کی وجہ سےٹیموں کیلئے اتنی بڑی بولی لگی ہے،محسن نقوی
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی بل منظور ہو گیا تو بھارتی معیشت کو قلیل مدت میں مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےنئے امریکی ٹیرف بل سے چین اور برازیل بھی متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں، جو روس سے توانائی کی درآمدات جاری رکھے ہوئے ہیں تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بل عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے اور تیل کی عالمی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد روس پر معاشی دباؤ بڑھانا اور یوکرین جنگ کے تناظر میں اس کی آمدنی کے ذرائع محدود کرنا ہے تاہم ناقدین کے مطابق اس پالیسی کے عالمی معیشت پر دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
