Baaghi TV

امریکا ایران جنگ بندی :بھارتی بھی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف

iran

امریکا اور ایران کے مابین 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جہاں عالمی برادری نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے وہیں بھارتی بھی امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پاکستان کے رابطوں کا نتیجہ ہے، جس میں اسلام آباد نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کو کم کریں اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دیں لیکن پاکستان کا یہ ثالثی کردار نہ تو بھارت کو ہضم ہو رہا ہے اور نہ اسرائیل اس سے خوش ہے جہاں بھارتی میڈیا میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر ماتم کا سماں ہے وہیں بھارتی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف ہیں، بھارتی عوام نے کُھل کر پاکستانی کردار کی تعریف کی۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر #PakGlobalPeaceMaker ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،بھارتی پروفیسر اشوک سوین نے وائٹ ہاؤس کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتکاری کی تعریف کی اور لکھا یہ ایران کے لیے ایک فتح اور پاکستان کے لیے اعزاز کا نشان ہے مودی شاید پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے چاہتے تھے مگر اس کے برعکس بھارت خود تنہا رہا گیا۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی پوسٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ شہباز شریف نے شاندار کام کیا،جبکہ مصنف اتل کھتری نے لکھا کہ ‘میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں پاکستان کے لیے یہ ٹوئٹ کروں گا،ساتھ ہی انہوں نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا-

فلمی نقاد کے آر کے نے وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ممکنہ ایٹمی جنگ کو روک کر نا صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا کو بچایا بلکہ دنیا کے اختتام تک آپ کو ایک ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا-

دفاعی تجزیہ کار ابھیجیت مترا نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنگ بندی کی مبارک باد دیتے ہوئے لکھا کہ ثالثی کے لیے مہارت درکار ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی خطرہ مول لینے کی بھی صلاحیت ہونی چاہیے، پاکستان نے دونوں کو بخوبی انجام دیا۔

مصنف اور دانشور جیانت بھنڈاری نے جنگ بندی پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان نے دکھا دیا ہے کہ وہ اچھے رہنما تلاش کر سکتا ہے، بنگلہ دیش اور سری لنکا بہت بہتر کام کر رہے ہیں، ہندوستانیوں کو خود سوچنا چاہئے کہ آخر وہ سڑکوں کے غنڈوں کی صلاحیت والے لیڈروں کی حمایت کیوں کرتے ہیں-

بھارت کے مشہور اسکالر اشوک سوین نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے کامیاب مذاکرات نہ صرف امریکا اور ایران کے اس پر بھروسے کا ثبوت ہیں، بلکہ یہ چین کے اعتماد کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ مودی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کے بجائے انہوں نے بھارت کو ہی تنہا کر دیا ہے۔

جہاں بھارتیوں کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے وہیں گودی میڈیا کو پاکستان کی تعریفیں ہضم نہیں ہو رہیں اور اپنی خفت مٹانے کے لیے قصے کہانیاں بھی گڑھنی شروع کردی ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف کے ایکس پر جاری پیغام کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔

بھارتی نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کے ایک سگمنٹ میں موجود تجزیہ کار نے سوال اٹھایا کہ امریکا اور ایران نے ثالثی کے لیے پاکستان پر بھروسہ کیا لیکن بھارت پر کیوں نہیں-

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کی نمایاں حیثیت نے خطے میں اثر و رسوخ کے موجودہ حساب کتاب کو چیلنج کر دیا ہے جنگ بندی کے اس وقفے کو عارضی خاموشی سے مستقل مذاکرات میں بدلنے کے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت کے لیے یہ صورتحال سفارتی طور پر کافی حساس ہے نئی دہلی طویل عرصے سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کے ہائی اسٹیک مذاکرات کے مرکز میں اسلام آباد کے اچانک نمودار ہونے نے بھارت کے اسٹریٹجک حلقوں اور میڈیا میں بحث چھیڑ دی ہے جہاں پاکستان کے اس کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

پاکستان کی یہ شمولیت حالیہ ہفتوں میں بتدریج بڑھی ہے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم شہباز شریف نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ رابطے بحال رکھے اور آج کے کامیاب مذاکرات سے پہلے ہمیشہ تحمل کا درس دیا۔

خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات، ایران کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز اور امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کی تاریخ نے اسے ایک منفرد مقام دیا کہ جب تناؤ عروج پر پہنچا تو اس نے ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کیا جنگ بندی کی خبر پر مارکیٹ نے فوری ردِعمل ظاہر کیا اور آج تناؤ میں کمی کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے گر گئیں۔

More posts