ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جبکہ بحرین، کویت اور عراق میں حملے کے پیش نظر غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد بھی دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری ہیں، امریکا نے مسلسل دوسرے دن ایرانی ساحلی شہروں سریک، بندر لنگہ اور جزیرہ قشم پر شدید بمباری کی ہے جس کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے لڑاکا طیاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے دس فوجی ٹھکانوں، میزائل اور ڈرونز کے گوداموں اور ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا ہے امریکا نے اس کارروائی کی ایک ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر جاری کی ہے،اس امریکی بمباری کے جواب میں ایران کی فوج ’پاسدارانِ انقلاب‘ نے بحرین اور کویت میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے جوابی حملے کیے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فضائی حملوں کے جواب میں اس کی بحری اور ایرو اسپیس فورسز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا کارروائی ایران کے ساحلی علاقوں پر مبینہ امریکی حملوں کے ردعمل میں کی گئی، بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر امریکا نے مزید فوجی کارروائی کی تو ایران اس سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع جواب دے گا۔
اس سے قبل ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی جنگی طیاروں نے خلیج فارس میں واقع جزیرہ سیرک کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم ایرانی فضائی دفاع نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا دوسری جانب بحرین کی وزارت داخلہ نے ملک میں خطرے کے سائرن بجنے کی تصدیق کی تاہم فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
کویت کی مسلح افواج نے بھی بتایا کہ فضائی دفاعی نظام ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے لیے متحرک ہے۔ حکام کے مطابق سنائی دینے والے دھماکوں کی آوازیں دفاعی نظام کی کارروائی کا نتیجہ ہیں جبکہ شہریوں کو سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
عراق کے دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں بھی غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اطلاعات کے مطابق خصوصی فورسز، بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کی بڑی تعداد تعینا ت کر دی گئی ہے اور گرین زون کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہےبعض رپورٹس میں اعلیٰ سرکاری شخصیات کی گرفتاریوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم عراقی حکام نے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔
