ایران نے امریکا کی حمایت سے پیش کی گئی قطر کی 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی مذاکراتی ٹیم کے قریبی مشیر اور سینئر تجزیہ کار محمد مرندی نے اس تجویز کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا، "اس بارے میں سوچنا بھی مت۔”رپورٹس کے مطابق مجوزہ منصوبے میں 10 روزہ جنگ بندی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی دو اہم بحری تجارتی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی تھی، تاکہ عالمی شپنگ اور تیل کی ترسیل معمول پر آ سکے۔محمد مرندی اس سے قبل بھی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کا امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سنجیدگی کا فقدان پایا جاتا ہے، جبکہ ایرانی حکام مسلسل یہ مؤقف دہراتے رہے ہیں کہ جب تک ایران کے خلاف خطرات اور دباؤ کا خاتمہ نہیں ہوتا، مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کیے جائیں گے۔
قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو امریکا سفارتی حل کیلئے تیار ہے، سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال تہران کے حق میں نہیں ہوگی۔صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچار ہے، ایران کی جانب سے مذاکرات کی خواہش کے اشارے موصول ہو رہے ہیں، امریکا ہمیشہ سے حقیقی اور نتیجہ خیز سفارتکاری کا خواہاں رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ایران میدانِ جنگ میں اپنی شرائط کے مطابق مؤثر برتری حاصل نہیں کر لیتا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران ایسی کامیابی چاہتا ہے جو اس کے قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے، اور مستقبل کی کسی بھی پیش رفت یا مذاکرات کا انحصار بھی اسی برتری پر ہوگا،انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی موجودہ حکمتِ عملی واضح ہے اور بات چیت اسی وقت ممکن ہوگی جب ایران خود کو مضبوط اور مؤثر پوزیشن میں محسوس کرے گا، امریکا اور اسرائیل نہ ہمیں دھمکا سکتے ہیں اور نہ ہی خرید سکتے ہیں، ایران کی جوہر افزودگی فروخت کیلئے نہیں، ہم جنگ کے بعد مزید مضبوط ہوکر ابھرے ہیں، دنیا نے دیکھ لیا کہ ایران کی اصل طاقت آبنائے ہرمز ہے، جنگ کے باوجود ایران کی پالیسیوں اور اصولوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جنگ سے پہلے ایران کو مذاکرات میں لالچ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔
دوسری جانب امریکہ کا مؤقف ہے کہ وہ تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے، تاہم اپنی قومی سلامتی اور اتحادی ممالک کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے،یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں کے تبادلے میں اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اقوام متحدہ سمیت متعدد ممالک دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ اپنانے کی اپیل کر رہے ہیں۔
