امریکا کی معروف درسگاہ ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس 2026 منعقد کی گئی-
ہارورڈ یونیورسٹی نے 12 اپریل 2026 کو پاکستان کانفرنس-2026 کے عنوان سے ایک بڑے سمپوزیم کی میزبانی کی، جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، حنا ربانی کھر، معید یوسف، اسماء شیرازی، حسن شہریار یاسین، اور دیگر کئی شخصیات نے شرکت کی ممتاز غیر ملکی مندوبین میں مائیکل کوگل مین، کرس وان ہولن اور ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسرز شامل تھےپینل مباحثوں میں معیشت، خارجہ پالیسی، ڈیجیٹل تبدیلی، ثقافت، اختراع، غیر ملکی پاکستانیوں کی تخلیقی شراکت، ہنر، تعلیم، صحت، میڈیا اور بہت سے دیگر موضوعات شامل تھے۔
700 سے زائد شرکاء، 50 مقررین، اور 17 پینلز کے ساتھ، یہ کانفرنس پاکستان کی رفتار میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہےایران میں امریکہ/اسرائیل جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو زبردست پذیرائی ملی پاکستان کی مستقل مزاجی پر مبنی خارجہ پالیسی کو سراہا گیا پینلز نے ہندوستان کی بالادستی کی خارجہ پالیسی کو جنوبی ایشیا میں امن کی راہ میں حقیقی رکاوٹ کے طور پر شناخت کیا۔
ڈاکٹر معید یوسف نے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی چیلنجوں کے درمیان علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، بھارت کی بالادستی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقائی امن کی کوششوں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔
سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور علاقائی امن کے لیے اس کی مسلسل کوششوں پر روشنی ڈالی ، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ-ایران جنگ بندی کی کوششوں اور بات چیت میں سہولت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، پاکستان کی متوازن، عملی اور مستقبل کی طرف نظر آنے والی خارجہ پالیسی کا خاکہ پیش کیا۔
رضا بکر نے پاکستان کے اقتصادی ایجنڈے کے سیشن کو ماڈریٹ کیا جس میں مقررین پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، ماہر اقتصادیات عاطف میاں اور نوبل انعام یافتہ پروفیسر ڈاکٹر درون آسموگلو شامل تھے۔ پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف کیا گیا پینل نے اتفاق کیا کہ مسلسل اصلاحات نے اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھی تھی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے معاشی نقطہ نظر، اصلاحات کی رفتار اور مستقبل میں ترقی کے امکانات کا خاکہ پیش کیا، پاکستان کے سابق قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے حالیہ سفارتی فوائد سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کی لچک اور ترقی کی وسیع صلاحیت کو اجاگر کیا۔
امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے پاکستان کی صلاحیت کی تعریف کی اور علاقائی کشیدگی میں ثالثی کے کردار کو سراہا عاطف میاں نے پاکستان کے اقتصادی نقطہ نظر پر سیشن کے دوران ساختی اصلاحات اور پائیدار ترقی کی اہمیت پر زور دیا امجد ثاقب نے انٹرپرائز اور کمیونٹی سے چلنے والی ترقی پر بات چیت کے دوران جامع ترقی اور سماجی اختراع پر زور دیا۔
پاکستان کانفرنس کے دوران امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اہم خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باصلاحیت اور کلیدی ملک قرار دے دیا، کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کی بدولت دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے،قدرت نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں انسانی صلاحیتیں اور نوجوان نسل سب سے بڑی طاقت ہیں۔
سفیر نے محمد علی جناح کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم نے پاکستان کو عالمی محور بننے کی پیشگوئی کی تھی جو آج حقیقت کا روپ دھارتی نظر آ رہی ہے،پاکستان کی مثبت سفارتی کوششوں کے باعث اسے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ملا، جو عالمی اعتماد کا واضح ثبوت ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل رہا ہے اور اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی، تاہم قوم اب بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔
رضوان سعید شیخ نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگاانہوں نے امریکی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
