Baaghi TV

ایرانی ریال کی قیمت میں تاریخی کمی ریکارڈ

تہران: ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور فری مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 20 لاکھ ایرانی ریال سے تجاوز کرگئی ہے، جس کے باعث ملک میں مہنگائی اور عوام کی قوت خرید میں مزید کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی کرنسی مسلسل دباؤ کا شکار ہے اور طویل عرصے سے جاری امریکی و بین الاقوامی پابندیوں، جنگ سے متعلق رکاوٹوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ریال کی قدر میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔

ریال کی حالیہ گراوٹ نے ایرانی شہریوں کی قوت خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد خوراک، ادویات اور دیگر روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی معیشت کئی دہائیوں سے امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کے دباؤ میں ہے، بالخصوص وہ پابندیاں جو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہیں۔ تازہ جنگی صورتحال نے تقریباً 9 کروڑ 20 لاکھ آبادی والے ملک کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل 20 لاکھ ایرانی ریال سے تقریباً 4 کلوگرام ٹماٹر، آدھا کلو چکن اور ایک لیٹر کوکنگ آئل خریدا جاسکتا تھا، تاہم اب اتنی ہی رقم سے ان اشیا کی تقریباً نصف مقدار ہی خریدی جاسکتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایران میں ٹماٹر کی اوسط قیمت میں 71 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ چکن 74 فیصد مہنگا ہوگیا ہے۔ اسی طرح کوکنگ آئل کی قیمت میں 177 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ادویات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ضروری انسولین کی قیمت میں 642 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پیراسیٹامول کی قیمت 93 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے سبسڈی دی جانے والی بعض اشیا کی قیمتوں میں بھی تقریباً 95 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے عام شہریوں کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق کرنسی کی مسلسل گرتی قدر، مہنگائی اور ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے ایرانی عوام پر معاشی دباؤ میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔

More posts