روس نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں داعش خراسان اب بھی ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے اور دہشتگرد گروہوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر منعقد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ افغانستان اور افریقہ کے بعض علاقوں میں دہشتگردی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
روسی مندوب نے کہا کہ مختلف خطوں کے درمیان غیر ملکی دہشتگرد جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور ایک علاقے میں حاصل ہونے والے جنگی تجربے کو دو سرے علاقوں تک منتقل کرنے کا چیلنج اب بھی حل نہیں کیا جا سکا، دہشتگرد تنظیمیں بھرتی، پروپیگنڈے، مالی معاونت اور حملوں کی منصوبہ بندی و رابطہ کا ری کے لیے نئی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع، ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور جدید مواصلاتی نیٹ ورکس کا بڑھتا ہوا استعمال کر رہی ہیں۔
انہوں نے ان خطرات کو سرحدوں سے ماورا قرار دیتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف عالمی سطح پر مربوط تعاون کی ضرورت پر زور دیاروسی مندوب نے کہا کہ داعش خراسان نے گزشتہ برسوں کے دوران افغانستان میں کئی مہلک حملے کیے ہیں اور افغانستان سے باہر بھی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے 22 مارچ 2024 کو ماسکو کے قریب کروکس سٹی ہال پر ہونے والے دہشتگرد حملے کو بھی نمایاں مثال قرار دیا، جس میں 130 سے زائد افراد ہلاک ہو ئے تھے اور داعش خراسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی،ایسے واقعات نے عالمی سطح پر اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے کہ افغانستان ایک با ر پھر دہشتگردی کو دوسرے ممالک تک منتقل کرنے کا مرکز بن سکتا ہے۔
