Baaghi TV

اسلام آباد میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی، مصدق ملک

اسلام آباد میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں مسلسل کمی پر وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پانی کے ری چارج کے اقدامات کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسلام آباد میں ’’زیرِ زمین آبی ذخائر کا تحفظ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ شہر میں تقریباً 200 ری چارج کنویں تعمیر کیے جاچکے ہیں، جو ایک اہم پائلٹ منصوبہ ہے، تاہم زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے اس منصوبے کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق ری چارج اقدامات کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں تقریباً 0.4 ملی میٹر اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں پانی کی سطح میں تقریباً 1.5 میٹر کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ری چارج کی سرگرمیوں کو اس سطح تک بڑھانا ہوگا کہ زیرِ زمین پانی کے مسلسل اخراج میں کمی لائی جاسکے اور پانی کی سطح میں کمی کے رجحان کو واپس پلٹا جاسکے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے واضح کیا کہ ری چارج کنوؤں کا منصوبہ ایک اہم کامیابی ہے، تاہم اسے زیرِ زمین پانی کے مسئلے کا حتمی حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے مسلسل، جامع اور طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے حالیہ شدید بارشوں کے تناظر میں اسلام آباد میں سطحی اور زیرِ زمین پانی کے بہتر انتظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں تقریباً 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جس کے باعث مختلف علاقے متاثر ہوئے، جبکہ متعلقہ حکام اور اداروں کو صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی۔

انہوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں پانی کے معیار کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں شہروں میں پانی کی صفائی کے پلانٹس کام کر رہے ہیں اور ان ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ذریعے پانی میں آلودگی کم کرنے میں مدد مل رہی ہے، تاہم پانی کے معیار کی مسلسل نگرانی اور اس میں مزید بہتری کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے پانی کے ایک اضافی ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام میں تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ یہ منصوبہ کئی سال سے زیرِ التوا ہے، حالانکہ اس کے لیے متعدد مرتبہ ٹینڈر جاری کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں تاخیر صرف کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی تک محدود نہیں بلکہ مختلف سرکاری اداروں میں بھی یہ مسئلہ موجود ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق مذکورہ منصوبے پر حال ہی میں پیش رفت ہوئی ہے اور ٹینڈرنگ کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منصوبے کو مزید تاخیر کے بغیر آگے بڑھایا جائے گا تاکہ پانی کے بہتر انتظام میں مدد مل سکے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کے آبی مفادات کے تحفظ اور پانی سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں اور قانونی طریقہ کار کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل پر انحصار کرنے والے ممالک کے حقوق کے تحفظ اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا اور قواعد و ضوابط پر مبنی بین الاقوامی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتا رہے گا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے ’’کلین انوائرمنٹ فنڈ‘‘ قائم کیا ہے، جس کے ذریعے ماحولیاتی اقدامات میں نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیا جائے گا اور منصوبوں کی مناسب جانچ پڑتال کا نظام بھی موجود ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید اور تخلیقی طریقہ کار اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے نئی آبادیوں، ہاؤسنگ اسکیموں اور عمارتوں کی چھتوں پر بارش کے پانی کو زیرِ زمین ذخائر تک پہنچانے اور ری چارج کرنے کے لیے قانون سازی کے اقدامات کی بھی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ آبی وسائل کا تحفظ شہری آبادیوں کے تحفظ اور مستقبل میں پانی کی پائیدار دستیابی یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے اسلام آباد کے ایکوائرز کے تحفظ، زیرِ زمین پانی کے بہتر انتظام اور آبی وسائل کے پائیدار استعمال کے لیے حکومت کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

More posts