سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے وکیل بدر عالم ایڈووکیٹ نے پی آئی اے کے ریٹائرڈ افسران کی نمائندہ تنظیم سوسائٹی آف فارمر پی آئی اے آفیسرز (SOFPO) کی جانب سے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (PIA-HCL) کو طبی سہولیات کے معاملے پر باقاعدہ قانونی نوٹس ارسال کر دیا ہے۔
قانونی نوٹس 10 فروری 2026 کو جاری کیا گیا جس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیف ہیومن ریسورس آفیسر پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی مکمل نقل فوری طور پر فراہم کی جائے۔نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (PIAC) کو 2016 کے ایکٹ کے تحت پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا گیا تھا، جس کے پیرا 6 کی شق (iv) میں واضح طور پر درج ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور دیگر مراعات کو ان کے نقصان میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔وکیل کے مطابق طبی سہولیات بھی بعد از ریٹائرمنٹ مراعات کا حصہ ہیں، لہٰذا انہیں کم یا ختم کرنا قانوناً ممکن نہیں۔
نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں پی آئی اے کو دو اداروں، یعنی PIACL اور PIA-HCL میں تقسیم کیا گیا۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے 3 مئی 2024 کو اسکیم آف ارینجمنٹ (SOA) کی منظوری دی، جس کے تحت ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور طبی سہولیات سمیت تمام واجبات پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر دیے گئے۔ایس ای سی پی کے حکم نامے کے پیرا 9 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کمیشن نے توقع ظاہر کی تھی کہ کمپنی ریٹائرڈ ملازمین کے خدشات کو قانون کے مطابق دور کرے گی اور ان کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔نوٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یکم اکتوبر 2025 کو پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے بورڈ کی ذیلی کمیٹی برائے طبی سہولیات کے اجلاس میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے مجوزہ میڈیکل انشورنس پلان پر بریفنگ دی تھی۔ اس موقع پر ریٹائرڈ افسران کی تنظیم نے کئی تحفظات کا اظہار کیا اور معاہدے کا مسودہ فراہم کرنے کی درخواست کی، جس پر کمیٹی نے رضامندی ظاہر کی تھی۔تاہم تنظیم کے مطابق تین تحریری یاد دہانیوں کے باوجود معاہدے کا مسودہ فراہم نہیں کیا گیا۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ 28 جنوری 2026 کو جاری کردہ سرکلر کے ذریعے یہ تصدیق کی گئی کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی نے اسٹیٹ لائف کے ساتھ طبی سہولیات کی فراہمی کا معاہدہ کر لیا ہے۔ سرکلر کے مطابق 30 ستمبر 2023 تک ریٹائر ہونے والے تمام اہل پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو طبی سہولیات اس معاہدے کے تحت فراہم کی جائیں گی۔تنظیم کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی شرائط، دائرہ کار، استثنیٰ اور ممکنہ اثرات سے ریٹائرڈ ملازمین کو آگاہ نہیں کیا گیا، جو شفافیت کے تقاضوں کے منافی ہے۔قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی اور اسٹیٹ لائف کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی مکمل اور مصدقہ نقل فوری طور پر فراہم کی جائے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ کہیں ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات میں کوئی کمی یا تبدیلی تو نہیں کی گئی۔
نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مطلوبہ دستاویز فراہم نہ کی گئی تو ریٹائرڈ ملازمین کے قانونی و معاہداتی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا، جس کے تمام اخراجات اور نتائج کی ذمہ داری کمپنی پر عائد ہوگی۔اس قانونی نوٹس کی نقول چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی، چیئرمین اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔




