وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ لیڈر کی رہائی کے لیے احتجاج ضرور کریں لیکن ادارے کو بے توقیر نہ کیا جائے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری، نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور باقیوں نے بھی سزائیں کاٹی ہیں،ہم نے سسٹم اور ایوان کے تقدس کو داؤ پر نہیں لگایا، نواز شریف کے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں نہیں جانا چاہتا، سوا 2 سال میں کارروائی کا محور تحریکِ انصاف کے لیے ان کے لیڈر ہیں، یہ لوگ ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیتے، اس ادارے کو بھی ایک شخص کے لیے نشانہ بنایا،شخصیات تو آنی جانی چیز ہیں، آنے والی نسلیں آگے آئیں گی، بڑی بڑی ہستیاں اس دنیا سے چلی گئیں، اِن لوگوں کے رویے درست نہیں ہیں،ٹھیک ہے لیڈر کی ان کو ہدایات آتی ہوں، مگر کوئی باہر سے اس ادارے کو کاری ضرب نہیں لگا سکتا
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ مہاجرین سے ’کشمیری‘ ہونے کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا۔ پاکستان نے کشمیر کے لیے جانوں کی قربانیاں دی ہیں، اور آج بھی ہماری افواج کے لاکھوں جوان پہاڑوں اور بلند چوٹیوں پر بیٹھ کر کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا دفاع کر رہے ہیں۔ وہ پنجابی، بلوچ، پشتون اور سندھی ہیں۔ پورا پاکستان آزاد کشمیر کا تحفظ کر رہا ہے،12 سیٹوں کا معاملہ عوام میں لے جائیں اور عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔ ٹھیک ہے کراچی کی ایک سیٹ ہے جس پر چند ہزار ووٹ ہیں، آپ چاہتے ہیں اسمبلی آپ کی مرضی کی آئے؟ میں گفت و شنید کے حق میں ہوں لیکن جب آپ قانون ہاتھ میں لے کر تشدد کریں گے تو حکومت کیسے چپ رہے؟ کیا یہ ایجنڈا بھارت سے آیا ہے؟کشمیر کے مہاجرین نے پاکستانی سرزمین پر آنے کی قیمت ادا کی ہوئی ہے۔ ہمارے دریا ان کے خون سے سرخ ہو گئے اور آپ کہتے ہیں ان سے ووٹ کا حق چھین لیا جائے؟ یہاں 25 کروڑ پاکستانیوں کا کشمیر میں اسٹیک ہے،
