آسٹریلیا کے ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے سابق آسٹریلوی کرکٹرز اور میڈیا پر نسلی امتیاز کے سلوک کا بھی ذکر کیا اور افسوس کا اظہار بھی کیا،ساتھ پاکستان بارے بھی کہہ دیا کہ مجھے چھوٹے ہوتے وقت پاکستان کا بتانے پر شرمندگی ہوتی تھی
عثمان خواجہ نے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے دوران کہا میں نے ہمیشہ خود کو آسٹریلوی ٹیم کے درمیان مختلف محسوس کیا، یہاں تک کہ اب تک، یہ سب میرے بیک گراؤنڈ کی وجہ سے تھا، میرے خیال میں آسٹریلوی کرکٹ ٹیم ہماری بہترین ٹیم ہے، یہ ٹیم ہمارا فخر اور خوشی ہے، لیکن میں نے بہت سارے معاملات میں بہت مختلف محسوس کیا ہے، میرے ساتھ لوگ الگ طریقے سے پیش آتے تھے۔عثمان خواجہ نے کہا مجھے کمر میں کھنچاؤ تھا اور یہ وہ چیز ہے جس پر میں قابو نہیں پا سکتا تھا لیکن جس طرح سے میڈیا اور ماضی کے کھلاڑی باہر آئے اور مجھ پر لفظی حملے کیے گئے، میں اسے دو دن تک برداشت کر سکتا تھا، لیکن میں نے تقریباً پانچ دن تک اس کا مقابلہ کیا۔ اس موقع پر عثمان خواجہ کے والدین، اہلیہ اور دونوں بیٹیاں بھی موجود تھیں۔عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستانی اور مسلمان ہونے پر فخر ہے، جس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ آسٹریلیا کے لیے کبھی نہیں کھیل سکے گا،انہوں نے دوسرے نوجوان کھلاڑیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری طرف دیکھو، تم بھی ایسا کر سکتے ہو۔ میں نے کبھی کسی کو آسٹریلوی ٹیم میں ایسے حالات میں دیکھا ہی نہیں۔ اگر کسی نے گالف کھیل لی یا رات کو زیادہ مشروبات لے لیے، تو کسی نے کچھ نہیں کہا۔ لیکن جب مجھے نقصان پہنچتا ہے، تو میری ساکھ اور شخصیت پر سوال اٹھایا جاتا ہے،جب لوگ میری مذہبی شناخت یا ایمان پر حملہ کرتے ہیں، یہ ذاتی معاملہ ہوتا ہے، اور میں اس پر بات کروں گا کیونکہ زیادہ تر کھلاڑی نہیں کرتے
عثمان خواجہ نے بتایا کہ جب انہوں نے 2011 میں اپنا ڈیبیو کیا، تو وہ اپنے پاکستانی پس منظر کو چھپاتے تھے تاکہ آسٹریلوی ٹیم میں زیادہ قابل قبول بن سکیں۔جب لوگ پوچھتے کہ آپ کہاں کے ہیں، تو میں شرمندہ ہو کر سعودی عرب کہہ دیتا تھا۔ میں نے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم میں فٹ ہونے کی بہت کوشش کی، لڑکوں کی طرح لباس پہنا، کلبز گیا، حالانکہ میں شراب نہیں پیتا۔ لیکن یہ سب کام نہیں آیا۔
عثمان خواجہ پاکستان میں پیدا ہوئے پھر بھی بادشاہ سے زیادہ وفادار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہیں اپنے ورثے پر فخر نہیں۔ان کے والد طارق اور والدہ فوزیہ کا تعلق کراچی اور اسلام آباد سے ہے۔اگر اسے پاکستان پر فخر نہیں ہے تو پی ایس ایل میں اسلام آباد کے لیے کیوں کھیلا؟پاکستان کو ایسے لوگوں کا بائیکاٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے کرکٹ شائقین میں اس سلسلے میں بحث جاری ہے کہ ایسے کھلاڑیوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے اور کیا ملک کو ایسے کھلاڑیوں کے لیے بائیکاٹ یا پابندیوں پر غور کرنا چاہیے۔
