کراچی: میر رضا قتل کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی کارروائی شروع ہوگئی، جس میں مقتول کے اہلِ خانہ، وکیل جبران ناصر، پولیس افسران، کاروباری شراکت دار، دوست اور رائیڈز فراہم کرنے والا ڈرائیور پیش ہوئے۔
میر رضا کے اہلِ خانہ اپنے وکیل جبران ناصر کے ہمراہ کمیشن میں شریک ہوئے، جبکہ سندھ حکومت کے فوکل پرسن ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، ایس ڈی پی او شارع فیصل ارشد آفریدی اور ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال بھی کارروائی میں موجود تھے۔کارروائی کے دوران میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھردے، عبداللہ، دوست رازق اور حیثم جبکہ میر رضا کو رائیڈز فراہم کرنے والے ڈرائیور احسان علی بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھردے سے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی سوالات کیے۔ کمیشن نے پوچھا کہ وہ میر رضا کو کب سے جانتے ہیں، جس پر احمد بھردے نے بتایا کہ وہ میر رضا کو بچپن سے جانتے تھے اور دونوں پہلی جماعت سے ساتھ تھے۔
احمد بھردے کے مطابق کالج کے زمانے میں بھی دونوں ساتھ رہے، مختلف ایونٹس کیے اور بعد ازاں کاروبار بھی شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020ء میں دونوں نے مشترکہ کاروبار کا آغاز کیا، جس کی ڈیزرٹ شاپ کی دو برانچز اور دو کلاؤڈ کچن تھے۔کاروباری شراکت سے متعلق سوال پر احمد بھردے نے بتایا کہ کاروبار شروع کرتے وقت پارٹنر ڈیڈ تیار کی گئی تھی اور دونوں مل کر تمام برانچز چلاتے تھے۔ میر رضا کا گھر بہادر آباد کے قریب ہونے کے باعث وہ کاروباری معاملات کا زیادہ حصہ وہیں سے دیکھتا تھا۔کاروبار کی مالی صورت حال کے بارے میں احمد بھردے نے کہا کہ کاروبار اچھا چل رہا تھا اور کوئی نقصان نہیں ہو رہا تھا۔ دونوں شراکت داروں نے طے کیا تھا کہ ذاتی اخراجات کے لیے روزانہ 5 ہزار روپے نکالے جائیں گے، جبکہ اضافی رقم درکار ہونے کی صورت میں دوسرے پارٹنر کو بتا کر رقم نکالی جاتی تھی۔احمد بھردے نے بتایا کہ جولائی میں اکاؤنٹنٹ رکھا گیا، اس سے قبل کاروبار کے مالی معاملات دونوں شراکت دار خود دیکھتے تھے۔ کمیشن کی جانب سے کاروبار فروخت کرنے کے ارادے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ کاروبار فروخت کرنے کا کبھی نہیں سوچا تھا۔
کمیشن نے میر رضا کی گمشدگی کے دوران صبح 8 بجے ان کے گھر جانے سے متعلق بھی سوال کیا۔ احمد بھردے نے بتایا کہ وہ اپنی کار میں میر رضا کے گھر گئے تھے اور ان کے پاس ایک گاڑی تھی جو ان کے والد کے نام پر تھی۔کمیشن نے سوال کیا کہ کیا ان کے بیان میں دو گاڑیوں کا ذکر نہیں تھا؟ احمد بھردے نے جواب دیا کہ دوسری گاڑی کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اسے پہلے ہی فروخت کیا جا چکا تھا اور عبداللہ بھی ان کے ساتھ تھا۔احمد بھردے کے مطابق گھر پہنچنے پر منیجر شیری، کاظم، رازق اور حیثم بھی وہاں موجود تھے۔کمیشن نے پوچھا کہ میر رضا کی فیملی سے کیا بات ہوئی؟ اس پر احمد بھردے نے بتایا کہ انہیں خیال آیا کہ شاید میر رضا کوئی نوٹ وغیرہ چھوڑ کر گئے ہوں، اس لیے انہوں نے اہلِ خانہ سے بات کی اور کہا کہ گھر میں چیک کرتے ہیں۔
کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ کیا احمد بھردے کا میر رضا کے گھر آنا معمول تھا اور میر رضا کے کمرے میں کون کون گیا تھا۔احمد بھردے نے بتایا کہ میر رضا کی والدہ، عبداللہ، رازق اور شیری کمرے میں گئے تھے۔ ان کے مطابق کمرے میں میر رضا کا والٹ، چارجر اور چابیاں موجود تھیں، جبکہ میر رضا عموماً چارجر اور چابیاں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔احمد بھردے نے مزید بتایا کہ میر رضا شیلف میں سگریٹ کے پیکٹ رکھتے تھے اور بعض پیکٹس میں چرس بھی ہوتی تھی۔چرس کا ذکر کیے جانے پر کمیشن نے احمد بھردے سے متعدد سوالات کیے کہ انہیں اس بارے میں کیسے معلوم تھا اور کیا انہوں نے کبھی چرس دیکھی تھی۔ کمیشن نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا میر رضا کے اہلِ خانہ کو کمرہ چیک کرنے کا موقع نہیں دیا جا سکتا تھا۔احمد بھردے نے کمیشن کو بتایا کہ وہ خود کو کلیئر کرنے کے لیے وہاں آئے ہیں۔
کمیشن نے ان سے مزید سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ کسی شخص کی ذاتی جگہ میں اس طرح جانا کیوں ضروری سمجھا گیا اور یہ بھی کہا کہ آپ نے خود بہت اچھی طرح تلاشی لی۔میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کی جانب سے مختلف افراد کے بیانات اور واقعات کے حوالے سے کیے جانے والے سوالات کے باعث کیس کی تحقیقات میں مزید اہم پہلو سامنے آنے کا امکان ہے۔
