ننکانہ صاحب باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز وساکھی میلہ میں 2 دن باقی کیا ترقیاتی کام مکمل ہو جائیں گے کیا مسائل جوں کے توں رہیں گےننکانہ صاحب میگا سیوریج پراجیکٹ سست روی کا شکار، واسا کی کارکردگی پر سوالیہ نشان سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل کے احکامات کے باوجود کیپٹن حسنین نواز شہید روڈ کلیئر نہ ہو سکی دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو شدید مشکلات کا خدشہ، مرکزی شاہراہ کھدائی اور پائپوں سے بھر گئی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے فوری نوٹس کا مطالبہ ضلعی انتظامیہ کے لیے وساکھی کے دنوں میں کیپٹن حسنین نواز شہید روڈ کلیئر کرنا بڑا چیلنج بن گیاننکانہ صاحب وساکھی میلہ کی تقریبات میں محض 3 دن باقی رہ گئے ہیں تاہم ننکانہ صاحب میں جاری سیوریج میگا پراجیکٹ تاحال سست روی کا شکار ہے جس کے باعث واسا کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں،سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل کی جانب سے واضح احکامات اور سات روزہ ڈیڈ لائن کے باوجود کیپٹن حسنین نواز شہید روڈ پر کام مکمل نہ ہو سکا، جبکہ سڑک کے مختلف حصوں میں کھدائی، بکھرے پائپ اور ادھورا کام شہریوں اور زائرین کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے،10 اپریل سے شروع ہونے والی تقریبات میں بھارت سمیت دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری ننکانہ صاحب پہنچیں گے، جو اپنے قیام کے دوران مختلف مقامات کی یاترا کریں گے،جن میں گوردوارہ جنم استھان، گوردوارہ تنبو صاحب، گوردوارہ پانچویں اور چھٹی پاتشاہی، گوردوارہ مال جی صاحب اور گوردوارہ کیارہ صاحب سمیت شہر کے اہم گوردوارے اسی مرکزی شاہراہ پر واقع ہیں،جبکہ شہر کے بڑے بازار بھی اسی روڈ سے منسلک ہیں،موجودہ صورتحال میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر سیوریج لائن کی کھدائی اور سڑک پر پڑے پائپ بروقت نہ ہٹائے گئے تو سکھ یاتریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو نہ صرف انتظامی کارکردگی بلکہ شہر کی ساکھ پر بھی اثر انداز ہوگا،شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وساکھی میلے کے دنوں میں اس اہم شاہراہ کو کلیئر کروانا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واسا اور ضلعی انتظامیہ وساکھی میلے سے قبل اس اہم شاہراہ کو کلیئر کر کے اپنی کارکردگی ثابت کر پائیں گے، یا مسائل جوں کے توں رہیں گے.
ننکانہ صاحب: وساکھی میلہ سر پر، سیوریج منصوبہ نامکمل — یاتریوں کو مشکلات کا خدشہ
