نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس میں تاحال کوئی اہم پیشرفت سامنے نہیں آسکی، جبکہ تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق رات گئے تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس فیروزآباد تھانے میں ہوا، جس کے بعد کمیٹی نے جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا۔ ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ کے معائنے کے لیے رات 3 سے 4 بجے کا وقت منتخب کیا گیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق میر رضا 28 جولائی کی رات تقریباً 3 سے 4 بجے کے درمیان لاپتا ہوا تھا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اسی وقت کے دوران جائے وقوعہ پر فائرنگ کا تجربہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ فائر کی آواز قریبی آبادیوں تک کس حد تک پہنچتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ کے قریب موجود مسجد، نرسری اور دیگر مقامات پر موجود افراد سے بھی پوچھ گچھ کی گئی، تاہم قریب موجود کسی شخص نے فائرنگ کی آواز سننے کی تصدیق نہیں کی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق 28 جولائی کو میر رضا کے لاپتا ہونے کے وقت اسی مقام پر فائرنگ ہوئی تھی یا نہیں، اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب میر رضا کی دونوں ہتھیلیوں پر گن پاؤڈر کے ذرات کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے، جس کے بعد تفتیشی حکام اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا میر رضا نے خود کسی موقع پر فائرنگ کی تھی یا نہیں۔تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم اب تک قتل کے محرکات اور ملزمان سے متعلق کوئی حتمی پیشرفت سامنے نہیں آسکی۔
