ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اس اضافے کے نتیجے میں پاکستان میں آئندہ 15 روزہ میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان ہے-
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اس اضافے کے نتیجے میں پاکستان میں آئندہ 15 روزہ نظرثانی کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 15 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے، جبکہ ڈیزل 20 روپے فی لیٹر تک مہنگا ہو سکتا ہے، اور اگر خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل کو کراس کرتی ہے تو قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ ہو سکتا ہے-
واضح رہے کہ یکم مارچ کو جب حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 8 روپے کا اضافہ کیا تھا اس وقت خام تیل کی قیمت 73 ڈالر فی بیرل تھی جو کہ اب بڑھ کر 77.09 فی بیرل ہو گئی ہے، اس قیمت میں مزید بھی اضافے کا امکان ہے۔
امریکا کی اپنے شہریوں کو سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کے 14ممالک فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ہی دن میں 5.79 فیصد اضافے کے بعد 77.09 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمت 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، اگر بحران طویل ہوا اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر رہی تو خام تیل 100 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتا ہے-
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے ممکنہ اثرات کے پیشِ نظر 18 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کمیٹی کے کنوینر ہوں گے۔
ایرانی حملوں سے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں تین زونز کو نقصان پہنچا،ایمیزون کی تصدیق
کمیٹی میں وزیر پیٹرولیم، وزیر توانائی، وزیر مملکت خزانہ، مختلف وزارتوں کے سیکریٹریز، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر، چیئرمین اوگرا اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں، کمیٹی عالمی جنگی صورتحال کے باعث پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات، تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر مسلسل نظر رکھے گی، جبکہ پیٹرو لیم سپلائی متاثر نہ ہونے کے لیے حکمتِ عملی بھی تیار کرے گی۔
