پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما،رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے پر شدید افسوس اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سحر کامران نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ 14 بچے نہیں جلے بلکہ 14 خاندانوں کے چراغ بجھ گئے۔ ماؤں نے نو ماہ اپنے وجود میں ان بچوں کی پرورش کی، لیکن جب انہیں گود میں لینے کا وقت آیا تو ان کے ہاتھوں میں جلی ہوئی میتیں تھما دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ "مائے نی میں کنوں آکھاں، درد وچھوڑے دا حال نی”، ان ماؤں کے دکھ اور درد کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ اسپتال کا بنیادی فائر فائٹنگ نظام کام نہیں کر رہا تھا، جس پر سوال اٹھتا ہے کہ اس غفلت اور ناکامی کا ذمہ دار کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب محض بیانات نہیں بلکہ جواب، احتساب اور انصاف چاہیے۔پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ اگر اخلاقی ذمہ داری نام کی کوئی چیز موجود ہے تو مصطفیٰ کمال کو فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 14 نومولود بچے، جنہیں دنیا میں آئے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا اور جن کی مائیں انہیں اپنی بانہوں میں لینے کی منتظر تھیں، ایسے اسپتال میں جان سے گئے جہاں مناسب فائر سیفٹی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری اور مؤثر احتساب کا فقدان تھا۔سحر کامران نے مزید کہا کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ نظام کی ناکامی اور ذمہ دار افراد کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ صرف رسمی طور پر تحقیقاتی کمیٹی بنانا انصاف نہیں۔ پاکستان کی مائیں حقیقی احتساب، ذمہ داروں کو سزا اور استعفوں کا مطالبہ کرتی ہیں، جس کا آغاز وزیر صحت سے ہونا چاہیے۔
