اسلام آباد: وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ کی زیرِ صدارت ادویات کی قیمتوں سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے موجودہ فارمولے اور ہارڈشپ پالیسی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سینیٹر احد چیمہ نے ادویات کی قیمتوں کے موجودہ فارمولے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کو قیمتوں کا فارمولہ ازسرِنو مرتب کرنے اور جامع نظرثانی کی ہدایت کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہارڈشپ پالیسی کے تحت ریلیف صرف حقیقی اور ناگزیر کیسز میں فراہم کیا جانا چاہیے۔ حکومتی ریلیف کا فائدہ ادویات کی قیمتوں میں بھی واضح طور پر نظر آنا چاہیے، جبکہ ٹیکس رعایت یا دیگر حکومتی سہولتوں کے حصول کے بعد تمام اضافی لاگت صارفین کو منتقل کرنا قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے درآمد کنندگان اور ریٹیلرز کے مارجنز کو معقول بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کے تعین کے عمل میں صارفین کے مفادات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
سینیٹر احد چیمہ نے ڈریپ پالیسی بورڈ میں ہیلتھ اکانومسٹ اور پبلک ہیلتھ ماہرین کو شامل کرنے کی ہدایت بھی کی، جبکہ قیمتوں کے تعین کے لیے مضبوط اور آزادانہ چیک اینڈ بیلنس کا نظام وضع کرنے پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد سستی اور معیاری ادویات کی دستیابی، صارفین کے تحفظ اور فارماسیوٹیکل شعبے کی پائیداری کے درمیان مؤثر توازن قائم کرنا ہے۔
