Baaghi TV

نیپال،سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 469 ہو گئی

کھٹمنڈو: نیپال میں شدید سیلاب اور اچانک آنے والے طغیانی کے ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، مختلف علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہوگئی جبکہ 1,545 افراد زخمی یا ریسکیو کیے جا چکے ہیں۔ تبت میں بھی سیلاب سے 3 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

نیپالی پولیس کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں چتوان میں 178، نوالپاراسی ایسٹ میں 110، گورکھا میں 44، نوواکوت میں 37، دَھادِنگ میں 33، تنہون میں 28، نوالپاراسی ویسٹ میں 27 اور راسوا میں 12 ریکارڈ کی گئی ہیں۔سیلاب کے بعد چین اور نیپال کی سرحد کے قریب ملبے سے بننے والی ایک جھیل کے بند ٹوٹنے سے مزید سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ نیپالی پولیس کے مطابق جھیل کا پانی کناروں سے باہر نکل گیا، جس کے باعث علاقے میں جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بھی عارضی طور پر روک دیا گیا۔چینی حکام کے مطابق مذکورہ جھیل میں آئندہ تین روز کے دوران تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی داخل ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ پانی کے بہاؤ میں یکم ستمبر کو اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بھی اچانک ایک اور بڑے سیلاب کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں کے کنارے آباد افراد، سیاحوں اور امدادی کارکنوں کو دریا کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔دوسری جانب نیپال کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کو فی الحال دیگر ممالک کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی ضرورت نہیں۔ وزارت کے ترجمان لوک بہادر چھتری کے مطابق نیپال اپنی سکیورٹی ایجنسیوں کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس وقت غیر ملکی امدادی ٹیموں کے بجائے مالی معاونت کی ضرورت ہے۔

تبت میں چینی سرکاری میڈیا کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے تمام پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ 555 سیاحوں کو نکالا گیا جبکہ 499 دیہاتیوں اور تعمیراتی کارکنوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔نیپال کے متاثرہ علاقوں میں تباہی کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں متعدد مکانات، دکانیں اور کاروباری مراکز سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں اور بڑی تعداد میں افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

More posts