دفاعی اور سفارتی محاذ پر حالیہ کامیابیوں کے بعد پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم اور مؤثر ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جبکہ بھارت کی خارجہ پالیسی اور سفارتی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق معرکۂ حق میں بھارت کے خلاف دفاعی کامیابی اور ایران و امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی نتیجہ خیز سفارتی کوششوں نے دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کے مطابق بھارت اس وقت واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ پاکستان پہلے ہی عالمی سفارتی حلقوں میں اپنی اہمیت اور اثر و رسوخ منوا چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے اور عالمی سطح پر ایک اہم ترین ملک بن کر ابھرا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات کو بھی غیر معمولی قرار دیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات روایتی گرمجوشی کے بجائے محض مصافحے تک محدود رہی، جسے بعض مبصرین نے دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری کی علامت قرار دیا۔
بھارتی صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا بھی کہنا ہے کہ عالمی برادری اب امن اور تنازعات کے حل کے لیے بھارت کے بجائے پاکستان کی جانب دیکھ رہی ہے، جو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی دہلی اپنی کھوئی ہوئی سفارتی حیثیت بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے بھارت کو اپنی موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی اور علاقائی معاملات میں زیادہ متوازن حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہوگی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار نے نہ صرف خطے میں اس کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے بلکہ اسے بین الاقوامی امن و استحکام کے لیے ایک مؤثر شراکت دار کے طور پر بھی نمایاں کیا ہے۔
