اسلام آباد: پمز اسپتال میں 14 معصوم بچوں کی ہلاکت کے واقعے پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے خلاف کارروائی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی۔
ایڈووکیٹ ناصر عظیم خان نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست دائر کی، جس میں وفاق پاکستان، وزارت صحت، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، سی ڈی اے اور ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پمز کے ایم سی ایچ نرسری میں انکیوبیٹرز میں موجود 14 معصوم بچوں کی جانیں گئیں، جبکہ ہسپتال انتظامیہ مبینہ طور پر سنگین انتظامی غفلت کی مرتکب ہوئی۔درخواست گزار وقاص ملک نے مؤقف اپنایا کہ پمز میں سابقہ لاپرواہی کے باعث وہ اپنا اکلوتا بیٹا بھی کھو چکے ہیں۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ 6 جولائی 2026 کو نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے واقعے کی 19 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے مؤثر اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے۔درخواست گزار نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ حکام کو بچانے اور جونیئر ملازمین پر ذمہ داری ڈالنے کی پالیسی ختم کرکے تمام ذمہ داران کا یکساں احتساب کیا جائے۔درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر رانا عمران سکندر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں ایف آئی اے کو واقعے کی فارنزک تحقیقات کرنے اور مبینہ مجرمانہ غفلت پر مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔مزید برآں، پمز کے حساس اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر ہونے والی مبینہ غیر قانونی یا ناقص تعیناتیوں کا عدالتی جائزہ لینے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت سرکاری اسپتالوں میں غریب شہریوں کی زندگی، عزت اور باوقار علاج کے حق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
