پمز سانحہ: لاوارث نومولود علی کی بھی تدفین ہوگئی، ایدھی کارکنوں نے آخری رسومات ادا کردیں۔26 اگست کو پمز اسپتال کے نومولود بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے 14 بچوں میں دو ماہ کا ایک ایسا بچہ بھی شامل تھا جس کا کوئی وارث اسپتال میں موجود نہیں تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ننھے علی کو اس کی والدہ اور ممکنہ طور پر نانی پمز میں لاوارث چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ اسپتال کا عملہ ہی اس بچے کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔ وہ ابتدائی طور پر گائنی وارڈ میں موجود رہا جہاں اس کی کلائی پر ’’بے بی ایچ‘‘ کا شناختی ٹیگ لگایا گیا تھا۔
بچے کی دیکھ بھال کرنے والی نرسوں نے بعد میں اسے ’’علی‘‘ نام دیا۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے پر اسے نومولود بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کردیا گیا، جہاں عملہ اس کی نگہداشت کرتا رہا۔
26 اگست کو نرسری میں آگ بھڑکنے کے نتیجے میں علی سمیت 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ دیگر بچوں کے لواحقین ان کی میتیں لے گئے، تاہم علی کی میت لینے کے لیے کوئی نہیں آیا۔
پمز انتظامیہ نے علی کی میت کچھ عرصہ مورچری میں رکھنے کے بعد جمعہ کو ایدھی فاؤنڈیشن کے مقامی کارکنوں کے حوالے کردی۔ ایدھی کارکنوں نے ننھے علی کی نماز جنازہ ادا کی اور اسے اپنی نگرانی میں سپرد خاک کردیا۔
علی کی کہانی اس سانحے کے دیگر متاثرہ خاندانوں سے مختلف تھی۔ جہاں دیگر بچوں کے والدین اپنے پیاروں کی میتیں لینے اسپتال پہنچے، وہیں اس دو ماہ کے معصوم کے لیے کوئی رونے والا اور آخری سفر پر لے جانے والا موجود نہیں تھا۔
