Baaghi TV

جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو جنگ کے باضابطہ خاتمے کیلئے مذاکرات کی پیشکش

korea

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کو طویل عرصے سے جاری کوریائی جنگ باضابطہ طور پر ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کردی ہے۔

صدر لی جے میونگ نے یہ پیشکش جاپان کی 1910 سے 1945 تک جاری رہنے والی نوآبادیاتی حکمرانی سے کوریا کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی،انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو دھمکانے کی روش ترک کرتے ہوئے براہِ راست فریقین کی حیثیت سے طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات شروع کرنے چاہییں۔

جنوبی کوریا کے صدر کے مطابق ایسے مذاکرات کے ذریعے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں مزید پیشرفت روکنے کے لیے مؤثر اقدامات پر بھی بات چیت ممکن ہوسکتی ہے،جنوبی کوریا کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شمالی کوریا نے رواں ہفتے امریکا اور جنوبی کوریا کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کی مخالفت کرتے ہوئے مزید سخت دفاعی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔

شمالی کوریا حالیہ عرصے میں جاپان کی جانب سے بحرالکاہل کے خطے میں اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافے پر بھی شدید ردعمل ظاہر کرچکا ہے،جاپان کی جانب سے دفاعی صلاحیتیں ’فوری ضرورت اور بحران کے احساس‘ کے تحت بڑھانے کے اعلان کے بعد شمالی کوریا نے دو ہفتوں کے دوران 2 میزائل بھی فائر کیے۔

شمالی کوریا 2019 میں ہنوئی میں اپنے رہنما کم جونگ ان اور اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات ناکام ہونے کے بعد سے خود کو ’ناقابل واپسی‘ جوہری ریاست قرار دیتا چلا آرہا ہے،ہنوئی مذاکرات میں جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری اور شمالی کوریا پر عائد پابندیوں میں نرمی کے دائرہ کار پر اتفاق نہ ہوسکا تھا۔

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے گزشتہ سال جون میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پیشرو کی نسبت شمالی کوریا کے حوالے سے زیادہ مفاہمانہ پالیسی اختیار کی۔ انہوں نے پیانگ یانگ کو بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

گزشتہ ماہ جنوبی کوریا کے وزیر اتحاد نے بھی کہا تھا کہ سیول نے شمالی کوریا پر دباؤ ڈال کر اس کے جوہری ہتھیار ختم کرانے کو اولین ترجیح دینے کی پالیسی ترک کردی ہے اور اب توجہ پیانگ یانگ کی جوہری سرگرمیوں میں مزید توسیع روکنے پر مرکوز ہے،شمالی کوریا کی قیادت نے اب تک صدر لی کی مذاکرات کی متعدد پیشکشوں کا کوئی واضح جواب نہیں دیا، بلکہ اس دوران روس کے ساتھ اپنے فوجی روابط مزید مستحکم کیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق روس، یوکرین میں جاری جنگ کے لیے فوجی اہلکاروں اور گولہ بارود کی فراہمی کے بدلے شمالی کوریا کو مالی معاونت، خوراک، توانائی اور فوجی ٹیکنالوجی فراہم کررہا ہے۔

توقع ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان رواں سال کے آخر میں روس کا دورہ کرسکتے ہیں، جہاں اہم بات چیت کا امکان ہےجنوبی کوریا کے اہم سیکیورٹی اتحادی امریکا نے شمالی کوریا سے ممکنہ فوجی خطرات کے مقابلے کے لیے قریباً 28 ہزار 500 فوجی جنوبی کوریا میں تعینات کر رکھے ہیں۔

امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ افواج کی کمان کے ترجمان نے رواں ہفتے کہاکہ یوکرین میں جنگ کے لیے شمالی کوریا کی فوجی تعیناتی نے جزیرہ نما کوریا میں امریکی اور جنوبی کوریائی فوجیوں کو درپیش خطرے کی نوعیت تبدیل کردی ہے،شمالی کوریا نے یوکرین کی جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات کو واپس اپنے ملک منتقل کیا ہے، جسے امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی تربیت میں پیش نظر رکھا جا رہا ہے۔ 11 روزہ امریکا، جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز پیر سے ہونے والا ہے۔

More posts