Baaghi TV

وزیراعظم شہباز شریف 3 روزہ سرکاری دورے پر کرغزستان روانہ

pm

وزیراعظم شہباز شریف 3 روزہ سرکاری دورے پر کرغزستان روانہ ہو گئے-

دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کرغزستان کے صدر صادر نگوژوئچ جپاروف کی خصوصی دعوت پر شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے 31 اگست سے 2 ستمبر تک بشکیک کے 3 روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں اس دورے کے دوران پاکستان اگلے کیلیینڈر کے لیے تنظیم کی صدارت سنبھالے گا، جبکہ وزیراعظم مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران وزیراعظم ایس سی او کے مرکزی اجلاس کے ساتھ ساتھ ’ایس سی او پلس سمٹ‘ میں بھی شرکت کریں گے اس اہم دورے کی خاص بات یہ ہے کہ پاکستان سال 2026-2027 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت کا قلمدا ن باقاعدہ طور پر سنبھالے گا، جبکہ اگلے برس کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔

وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود ہے، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، اور وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے علاوہ دیگر سینئر حکام شامل ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے آغاز میں 31 اگست کو ‘ورلڈ نومیڈ گیمز’ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گےبعد ازاں 2 ستمبر کو وہ کرغز صدر سے ملاقات کریں گے جس میں پاک کرغزستان تعلقات کی تمام جہتوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا ،اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سر مایہ کاری، توانائی، علاقائی رابطوں (کنیکٹیوٹی)، تعلیم، سیاحت اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، دونوں رہنما باہمی دلچسپی کے علا قائی و عالمی امور اور بین الاقوامی فورمز پر تعاون کے فریم ورک پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور کرغزستان کے مابین مشترکہ تاریخ، عقیدے اور ثقافتی ہم آہنگی پر مبنی دیرینہ برادرانہ تعلقات قائم ہیں، یہ دورہ حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں کو مزید تقویت دینے اور دونوں ممالک کی سیاسی خیرسگالی کو ٹھوس اور عملی معاشی تعاون میں بدلنے کا ایک اہم موقع ثابت ہوگا۔

واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے پر 10 رکن ممالک (پاکستان، چین، روس، بھارت، ایران، کرغزستان، بیلاروس، قازقستان، تا جکستان اور ازبکستان) کے عالمی رہنما بشکیک میں جمع ہو رہے ہیں، جبکہ افغانستان اور منگولیا بطور مشاہدہ کار (آبزرور) اس تنظیم کا حصہ ہیں۔

More posts