پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے نازیبا، غیر اخلاقی اور اشتعال انگیز آن لائن مواد کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ 10 برس کے دوران لاکھوں انٹرنیٹ لنکس بلاک کرنے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں مجموعی طور پر 15 لاکھ 42 ہزار 800 آن لائن لنکس بلاک کیے گئے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی، قابلِ اعتراض اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کی روک تھام اور صارفین کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق غیر اخلاقی مواد کے خلاف کارروائی کے دوران 99 فیصد لنکس بلاک کیے گئے، جبکہ قابلِ اعتراض اور اشتعال انگیز مواد کی بلاکنگ کی شرح 90 فیصد رہی۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملکی قوانین اور سائبر ریگولیشنز کے مطابق کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ویب سائٹس پر موجود مواد کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے، اور شکایات یا متعلقہ اداروں کی نشاندہی پر کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس دوران سب سے زیادہ کارروائی فیس بک کے خلاف کی گئی، جہاں 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے گئے۔
پی ٹی اے کا مؤقف ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر ایسا مواد جو معاشرتی اقدار، عوامی مفاد یا ملکی قوانین سے متصادم ہو، اس کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ ادارے نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دینا اور صارفین کو محفوظ آن لائن ماحول فراہم کرنا اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔
پی ٹی اے نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں انٹرنیٹ پر غیر قانونی، غیر اخلاقی یا اشتعال انگیز مواد نظر آئے تو وہ متعلقہ ذرائع کے ذریعے اس کی نشاندہی کریں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔ ادارے کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر نگرانی کے ذریعے آن لائن دنیا کو محفوظ بنانے کی کوششیں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
نازیبا اور اشتعال انگیز آن لائن مواد کے خلاف پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن
