بالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے گھر پر جان لیوا حملے سے متعلق ایک سال سے زائد عرصے بعد کھل کر بات کی ہے-
بالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے اپنے گھر پر ہونے والے جان لیوا چاقو حملے کے ایک سال سے زائد عرصے بعد پہلی بار اس خوفناک رات سے متعلق بتایا کہ حملہ آور کو معاف کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہے کیونکہ اس نے نہ صرف ان پر حملہ کیا بلکہ ان کے کمسن بیٹے جہانگیر (جے) کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
سیف علی خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ جنوری 2025 میں ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع ان کی رہائش گاہ میں ایک شخص گھس آیا تھا، جس نے انہیں متعدد بار چاقو کے وار کرکے شدید زخمی کر دیا، اداکار کے مطابق اس واقعے کی سب سے تکلیف دہ بات یہ تھی کہ حملہ آور نے ان کے بیٹے جے کو بھی نقصان پہنچایا، اور یہی وجہ ہے کہ اس شخص کو معاف کرنا ان کے لیے آسان نہیں، وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اس رات کی یادیں آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں ا اگرچہ وقت نے جسمانی زخم بھر دیے ہیں لیکن ذہنی اور جذباتی اثرات اب بھی باقی ہیں۔
واضح رہے کہ 16 جنوری 2025 کو سیف علی خان پر ان کے گھر میں گھس کر حملہ کیا گیا تھا، جس میں انہیں چھ چاقو کے زخم آئے تھے۔ ایک زخم ریڑھ کی ہڈی کے انتہائی قریب تھا، جس کے باعث انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی ہنگامی سرجری کی گئی بعد ازاں پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔
