خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں 50 ہزار روپے کے بجلی کے بل کی تصحیح کے دوران مبینہ تلخ کلامی کے بعد محکمہ تعلیم کے ریٹائرڈ ملازم نور حسن دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئے۔
متوفی کے بیٹے نور اللہ کے مطابق ان کے والد بجلی کے بل کی شکایت درج کرانے پیسکو کے دفتر گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میٹر پر نہ ہونے کے برابر ریڈنگ موجود ہونے کے باوجود نور حسن کو 50 ہزار روپے کا بجلی کا بل بھیج دیا گیا تھا۔
نور اللہ کے مطابق میٹر ریڈنگ سیکشن میں پیسکو عملے کے ساتھ بل کے معاملے پر بحث و مباحثہ ہوا، جس کے دوران ان کے والد کو اچانک دل کا دورہ پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد پیسکو کے اہلکار دفتر سے چلے گئے۔
متوفی کے بیٹے نے متعلقہ میٹر ریڈر فیاض کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس کو باقاعدہ درخواست بھی جمع کرا دی ہے۔
دوسری جانب پیسکو کے سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) نے دفتر میں بدسلوکی یا تلخ کلامی کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ایس ڈی او کے مطابق نور حسن بجلی کے بل کے معاملے پر عدالت سے رجوع کرچکے تھے اور عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ان کا بل درست کرکے 12 ہزار روپے کردیا گیا تھا۔
واقعے کے بعد بجلی کے بلوں میں اوور بلنگ کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث آگیا ہے۔ حالیہ دنوں میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر اوور بلنگ کی نشاندہی کی تھی۔
آڈٹ حکام کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران بجلی صارفین سے مجموعی طور پر 47 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق لیسکو کے بعد پیسکو 1.56 ارب روپے کی مبینہ اوور بلنگ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ بجلی چوری اور لائن لاسز کو کم ظاہر کرنے یا چھپانے کے لیے بعض اوقات باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو بھی زیادہ بل بھیجے جاتے ہیں، جبکہ شکایت درج کرانے کے بعد ہی بل کی رقم میں تصحیح یا اضافی وصول کی گئی رقم کی واپسی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
