ماہرِ ماحولیات طارق علی نظامانی نے پمز سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات ہم سب کو یہ سبق دیتے ہیں کہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کو محض ذمہ داری نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر ادا کرنا چاہیے۔
اپنی رہائش گاہ پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پمز میں ننھے پھول اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، معصوم بچوں نے جس اذیت کا سامنا کیا ہوگا اسے سوچ کر ہر دل غمزدہ اور ہر آنکھ اشک بار ہے۔ یہ سانحہ پوری قوم کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔
طارق علی نظامانی کا کہنا تھا کہ حادثات اچانک پیش آسکتے ہیں، لیکن ایسے وقت میں فرض شناسی، احساسِ ذمہ داری، حوصلہ، ہمت اور خدمت کا جذبہ نقصان کو کم کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس غفلت، بے حسی اور فرائض سے پہلو تہی معمولی واقعے کو بھی بڑے سانحے میں تبدیل کرسکتی ہے۔
انہوں نے پمز سانحے کے دوران بہادری کا مظاہرہ کرنے والی نرس رضیہ نورین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر انسانی جانیں بچانے کی کوشش کی، جو قابلِ ستائش اور قابلِ تقلید مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات میں رضیہ نورین جیسے فرض شناس افراد معاشرے کے لیے امید کی کرن بن جاتے ہیں۔ ہمیں ایسے ہی باہمت اور انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار افراد کی ضرورت ہے۔
ماہرِ ماحولیات نے زور دیا کہ پمز جیسے سانحات سے سبق سیکھتے ہوئے ہر شعبے میں فرائض کو ترجیح دی جائے اور انسانی جان کے تحفظ کو سب سے مقدم رکھا جائے۔
پمز سانحہ: پیشہ ورانہ فرائض کو عبادت سمجھ کر ادا کرنا ہوگا، طارق علی نظامانی
