کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع کچھی کی تحصیل بھاگ ناڑی میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بڑا اور مربوط حملہ ناکام بنا دیا۔ کارروائی کے دوران متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے صبح تقریباً 6 بجے بھاگ شہر میں پولیس اسٹیشن، نیشنل بینک اور اسسٹنٹ کمشنر آفس سمیت مختلف سرکاری تنصیبات کو بھاری ہتھیاروں، راکٹ لانچرز، مشین گنز، اسنائپرز اور دستی بموں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق تقریباً 40 دہشت گرد حملے میں شریک تھے، جن کا مقصد بھاگ پولیس اسٹیشن پر قبضہ کرکے اسلحہ چھیننا تھا۔ تاہم پولیس اہلکاروں نے تقریباً دو گھنٹے تک جوانمردی سے مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔انہوں نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن کی مضبوط حفاظتی دیوار نے دفاع میں اہم کردار ادا کیا جبکہ پولیس کی مؤثر جوابی کارروائی کے باعث دہشت گرد اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر فرار ہوگئے۔
حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 3 سے 4 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم حتمی تعداد کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔
شاہد رند کے مطابق دہشت گرد نیشنل بینک سے کوئی رقم لوٹنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے۔ بینک میں نصب کی گئی آئی ای ڈی کو اسپیشل برانچ کے بم ڈسپوزل یونٹ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکارہ بنا دیا۔حملے کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے جبکہ تین شہری بھی زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد بھاگ کے شہریوں نے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خلاف نعرے لگائے۔ مقامی افراد نے پاکستان زندہ باد اور سیکیورٹی فورسز کے حق میں نعرے بھی بلند کیے۔حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔ بھاگ کے عوام اور سیکیورٹی فورسز کا اتحاد دہشت گردوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ بلوچستان میں امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔
